پیٹرول پمپ بند کرنے کے معاملے پر پیٹرولیم ڈیلرز اور پیٹرول پمپ مالکان کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے ہیں جس کے باعث ملک گیر ہڑتال کے حوالے سے فوری فیصلہ نہ ہو سکا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے درمیان ہڑتال کے معاملے پر اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکا۔ اگرچہ پیٹرول پمپ مالکان کی جانب سے ہڑتال پر زور دیا جا رہا ہے تاہم پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے فوری طور پر اس کی حمایت کرنے سے گریز کیا ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اس صورتحال کے پیش نظر اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کا ایک اہم اجلاس بدھ کے روز طلب کر لیا ہےجس میں ملک بھر سے وابستہ ڈیلرز کی مشاورت سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات پر غور کیا جائے گا کہ ملک گیر ہڑتال کی جائے یا احتجاج کے دیگر طریقے اختیار کیے جائیں۔ اس دوران اوگرا کی جانب سے دی گئی سات روزہ مہلت کو بھی زیر غور لایا جائے گا۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے مسائل کے حل کے لیے یقین دہانی کرائی ہے اور معاملات کو حل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت طلب کی ہے۔ اسی وجہ سے فوری طور پر کسی ملک گیر ہڑتال کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر کے ڈیلرز سے مشاورت کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے گا جس سے اوگرا کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔
پیٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مقررہ مدت کے دوران اپنے وعدوں پر عمل درآمد میں ناکام رہی تو پھر ملک گیر ہڑتال سمیت دیگر احتجاجی آپشنز پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب پیٹرول پمپ مالکان کی جانب سے ہڑتال کے مطالبے اور ڈیلرز کی جانب سے فوری حمایت نہ ملنے کے باعث صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے تاہم عوام کی نظریں بدھ کو ہونے والے اہم اجلاس پر مرکوز ہیں جہاں آئندہ کے لائحہ عمل اور ممکنہ ہڑتال کے بارے میں فیصلہ کیے جانے کا امکان ہے۔