جرمنی نے مسلح ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ایک افغان باشندے کو ملک بدر کر دیا ہے،جرمن وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ اقدام ملک میں جرائم کے خاتمے اور جرمن عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا۔ وزارتِ داخلہ نے واضح کیا کہ ایسے غیر ملکی شہری جو پرتشدد جرائم، منشیات فروشی یا منظم جرائم میں ملوث ہوں انہیں ملک میں قیام یا پناہ کا حق نہیں دیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مذکورہ افغان تارک وطن کو عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملک بدر کیا گیا اور آئندہ بھی جرائم میں ملوث افغان شہریوں کی ملک بدری کی توقع ہے،جرمن حکام کے مطابق 2018 سے اب تک 220 سے زائد افغان پناہ گزین مختلف جرائم میں ملوث ہونے پر جرمنی سے بے دخل کیے جا چکے ہیں۔
ان میں سے گزشتہ سال 2024 میں 28 اور رواں سال اب تک 81 افغان شہریوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے،افغان میڈیا کے مطابق طالبان حکومت کے بعد سے افغانستان سے فرار ہو کر یورپ پہنچنے والے افغان تارکین وطن نے مختلف ممالک میں جرائم کی وارداتیں کی ہیں۔
صرف جرمنی ہی نہیں بلکہ دیگر یورپی ممالک میں بھی اس مسئلے کا سامنا ہے،امریکی، کینیڈین اور آسٹریلوی حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغان پناہ گزین بعض اوقات سنگین جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں جو پناہ دینے والے ممالک کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
جرمن وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی عوام کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے نافذ کی گئی ہے
حکام نے اس بات پر زور دیا کہ جرمنی اور دیگر ممالک میں موجود افغان پناہ گزینوں کے بارے میں محتاط نگرانی اور مؤثر قانون سازی جاری رہے گی تاکہ ملک میں جرائم کی شرح میں کمی لائی جا سکے اور عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔