دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں

دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں

بھارت کے یوم آزادی پر آج مقبوضہ کشمیرسمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری یوم سیاہ منارہے ہیں جس کا مقصد بھارت کے غیر قانونی اور غاصبانہ قبضے کے خلاف عالمی سطح پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔

بھارت نے 27 اکتوبر 1947ء کو کشمیری عوام کی مرضی اور منشا کے خلاف ریاست پر جبری قبضہ قائم کیا جس کے بعد سے اب تک78 سالہ جبر و استبداد کے دوران لاکھوں بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔

اس موقع پر کشمیری عوام نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت اپنے بنیادی پیدائشی حق یعنی حق خودارادیت کا مطالبہ دہرایا ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :کشمیریوں کا یومِ سیاہ، عالمی برادری سے بھارتی قبضے کے خلاف عملی اقدام کا مطالبہ

انہوں نے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

دوسری طرف قابض بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ وادی بالخصوص سری نگر کو مکمل طور پر فوجی چھانی میں تبدیل کر دیا ہے۔

سری نگر کے بخشی اسٹیڈیم کے گرد کئی حصار پر مشتمل سکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے۔گاڑیوں ، مسافروں اور راہگیروں کی سخت تلاشی کی جا رہی ہے۔بخشی اسٹیڈیم میں بھارتی یوم آزادی کی نام نہاد مرکزی تقریب ہوگی۔

مظفرآباد سمیت کئی شہروں میں بھارت کیخلاف احتجاج ریکارڈ کرایا جائیگا، اس موقع پر عالمی برادری سے بھارتی مظالم کا نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا جائیگا۔

قبل ازیں بھارتی قابض انتظامیہ نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء میرواعظ عمر فاروق کو گزشتہ روز ہی ایک بار پھر گھر نظر بند کر دیاگیا تھا اور انہیں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے تاریخی جامع مسجد سرینگر جانے سے روک دیاگیا تھا۔

 یہ بھی پڑھیں :مقبوضہ کشمیر کی آزادی وقت کی ضرورت، گلگت بلتستان سی پیک کا دل ہے، صدر آصف علی زرداری

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق میرواعظ عمر فاروق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ربیع الاول کے بابرکت مہینے کے آغاز سے قبل انہیں دوبارہ خانہ نظر بند کردیا گیا ہے۔

انہوں نے جمعہ کے روز بار بارعائد کی جانیوالی بلاجواز پابندیوں کوانتہائی قابلِ مذمت قراردیا۔انہوں نے بھارتی حکام کے صورتحال معمول پر آنے کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں بار بار جامع مسجد جانے سے روکنے سے قابض انتظامیہ کے اس بیانیے کی قلعی کھل گئی ہے

editor

Related Articles