بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کو نظرانداز کرنے کے دعووں کے برعکس ایک بھارتی ادارے کی رپورٹ نے ایسا ڈیٹا سامنے رکھ دیا ہے جو اس بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت میں سب سے زیادہ بولے جانے والے الفاظ میں ’’پاکستان‘‘ چھٹے نمبر پر ہے اور یہ لفظ ’’انڈیا‘‘ اور ’’گاندھی‘‘ سے بھی آگے ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی میڈیا پر ہونے والی بین الاقوامی کوریج میں پاکستان کا حصہ 30.8 فیصد رہا، جو امریکہ کے مقابلے میں دگنے سے بھی زیادہ اور چین کے مقابلے میں پانچ گنا سے زائد ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ رجحان آن لائن بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ فروری 2019 کے عروج کے دنوں میں صرف دو دن کے اندر بھارت سے شروع ہونے والی ٹوئٹر گفتگو کے 13.74 ملین (ایک کروڑ 37 لاکھ 40 ہزار) پیغامات ریکارڈ کیے گئے، یعنی روزانہ اوسطاً 6.87 ملین پیغامات، اور یہ سب پاکستان کے بارے میں تھے۔
یہ رجحان صرف ٹیلی ویژن تک محدود نہیں ہے۔ بالی وڈ کی کئی بڑی اور کامیاب ترین فلمیں بھی پاکستان کے موضوع پر بنائی گئی ہیں، جن میں دھرندھر 1 اور 2، بجرنگی بھائی جان، غدر 1 اور 2 اور ٹائیگر سیریز کی فلمیں شامل ہیں، جبکہ یہ فہرست طویل ہے۔
یوں اگر دیکھا جائے تو بھارتی میڈیا میں پاکستان کے سوا کچھ بکتا ہے نہ ہی فلمیں پاکستان کا نام استعمال کیے بغیر چلتی ہیں۔
بھارت میں ہندوتوا کی سیاست اور مودی سرکار کی جانب سے پاکستان اور مسلم دشمنی کے بیانیے کو ہوا دینے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں، جس میں انتہا پسند ہندو عناصر کی جانب سے بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی بات کی جاتی ہے۔ ناقدین کے مطابق اس رجحان نے نام نہاد سیکولر بھارت میں نفرت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے خلاف مظالم کے حوالے سے بھی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔