جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت، ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کو امریکا کے ویزے جاری

جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت، ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کو امریکا کے ویزے جاری

 ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر ایرانی حکام کو امریکا کے ویزے جاری کر دیے ہیں۔

امریکی میڈیا نے محکمہ خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی صدر اور وزیر خارجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کا سفر کرنا چاہتے ہیں۔

ایرانی وفد کے اہم ارکان کو ویزے مل گئے

امریکی حکام کے مطابق ایران کے اہم وفد اور ضروری عملے کے ویزوں کی منظوری دے دی گئی ہے۔

تاہم اس مرتبہ ایرانی وفد میں شامل حکام کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں کم بتائی گئی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :امریکہ کے ایران پر پھر حملے ، کئی شہروں میں دھماکے ، ٹرمپ نے بڑی دھمکی دیدی

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ میزبان ملک کی حیثیت سے امریکا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ضروری انتظامات مکمل کیے ہیں۔

ایرانی حکام پر سفری پابندیاں برقرار

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ایرانی حکام جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کر سکیں گے۔

تاہم ان کا دورہ مکمل طور پر غیر مشروط نہیں ہوگا۔ ایرانی حکام کو بعض سفری پابندیوں اور مخصوص شرائط کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ویزا جاری کیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ ایرانی وفد پر عائد تمام پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔

نیویارک میں جنرل اسمبلی کا اجلاس

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس نیویارک میں شروع ہو رہا ہے۔

اجلاس کا آغاز جمعہ سے ہوگا اور یہ 28 ستمبر تک جاری رہے گا۔

 دنیا کے مختلف ممالک کے سربراہان، وزرائے خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے اہلکار نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے میزبان ملک کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غزہ سے اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کردیا، پاکستان کی بھرپورحمایت

ان کے مطابق ایرانی حکام کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کا موقع دیا جائے گا، تاہم ان کا سفر موجودہ سفری پابندیوں کے دائرے میں ہوگا۔

اس کا مطلب ہے کہ ایرانی وفد کو امریکا میں آمد اور قیام کے دوران مخصوص ضوابط کی پابندی کرنا ہوگی۔

محمود عباس کو ویزا دینے سے انکار

دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے فلسطینی صدر محمود عباس اور فلسطینی وفد کے حوالے سے مختلف فیصلہ کیا ہے۔

امریکا نے محمود عباس کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ ایرانی قیادت کو ویزے جاری کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے جس کے باعث دونوں معاملات توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

جنرل اسمبلی کا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی سفارت کاری میں اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔

مختلف ممالک کے سربراہان اور وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران علاقائی اور عالمی معاملات پر اپنے مؤقف کا اظہار کریں گے۔

editor

Related Articles