پاکستان سعودی عرب کے دفاع کیلئے کسی حدتک جانے کوتیار ہے ، ترجمان پاک فوج

پاکستان سعودی عرب کے دفاع کیلئے کسی حدتک جانے کوتیار ہے ، ترجمان پاک فوج

 ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب پرحملے کی صورت میں اس کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے عرب نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان سفارتی اور عملی (فزیکل) دونوں سطحوں پر مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ مکمل طور پر کھڑا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم عملی طور پر کسی بھی حد تک جائیں گے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا عزم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات کے تحفظ تک محیط ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ ہم کسی بھی جارحیت کے خلاف مملکت سعودی عرب کا دفاع جاری رکھیں گے۔

 یہ بھی پڑھیں :افغانستان کی شرائط معنی نہیں رکھتیں،دہشت گردی کاخاتمہ اہم ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

عرب نیوز کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کا لہجہ اسلام آباد کی جانب سے گزشتہ ہفتے اختیار کیے گئے عوامی موقف کے مقابلے میں زیادہ دو ٹوک تھا۔

گزشتہ ہفتے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ مکہ معاہدے کے تحت اس وقت کسی پاکستانی فوجی ردعمل پر بات چیت نہیں ہو رہی، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ پاکستان وقت آنے پر کارروائی کرے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سعودی سلامتی کے لیے ہمارا عزم غیر مشروط ہے اوریہ دونوں ممالک کے عوام، افواج اور سیاسی قیادت کے درمیان جذباتی، گہرے، تاریخی اور اٹوٹ رشتے کا نتیجہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کو جب پوچھا گیا کہ آیا ریاض نے اس دوران مزید پاکستانی فوجیوں، فضائی دفاعی نظاموں یا حوثیوں کے خلاف براہِ راست شرکت کی کوئی درخواست کی ہے، تو انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا ۔

انہوں نے اس بات کی بھی واضح طور پر نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید کہ آیا پاکستان کی جوہری ڈیٹرنس (جوہری دفاعی صلاحیت) ان دفاعی ضمانتوں کے دائرہ کار میں آتی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں :پاکستان نے افغانستان پر حملہ نہیں کیا، ہماری نظر میں کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں ہیں ، ڈی جی آئی ایس پی آر

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اورایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مابین ٹیلی فونک رابطے سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت ان تمام معاملات پر سعودی عرب کی معزز قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اس بحران کامذاکرات کے ذریعے پرامن حل تلاش کرنے کے لیے علاقائی حکومتوں سے مشاورت کر رہا ہے۔ پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مہینوں کے مذاکرات کی ثالثی کی جس نے جون میں اسلام آباد کی مفاہمت کی یادداشت تیار کی۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے نے جنگ کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سلامتی پر تنازعات کو حل کرنے کے لیے ایک فریم ورک قائم کیا تھا، لیکن اس کے بعد ہونے والی بات چیت نئے سرے سے فوجی کشیدگی اور عمل درآمد پر اختلافات کے درمیان تعطل کا شکار ہے۔

انہوںنے کہا کہ اسلام آباد ایم او یو کوایک متفقہ دستاویز ہےجو ہمارے خیال میں اس پیچیدہ فوجی صورتحال سے نکلنے کا واحد حقیقی راستہ فراہم کرتی ہے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی طرف واپس لانے سے متعلق سوال پر کوئی ٹائم ٹیبل نہیں دیا اور کہا کہ اسلام آباد بداعتمادی،بگاڑپیدا کرنے والوں اورمخالفین کے باوجود مشترکہ بنیادوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے

editor

Related Articles