انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے معاملے پر بنگلادیش کے ممکنہ بائیکاٹ کے بعد ایک سخت فیصلہ کرتے ہوئے تمام بنگلادیشی صحافیوں کو ایونٹ کی کوریج کے لیے ایکریڈیشن دینے سے انکار کر دیا ہے، بنگلادیشی میڈیا کے مطابق سری لنکا اور بھارت میں ہونے والے میچز کے لیے کسی بھی بنگلادیشی صحافی کو اجازت نامہ جاری نہیں کیا گیا۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کی میڈیا کمیٹی کے چیئرمین امزاد حسین نے اس صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بنگلادیش سے 130 سے 150 صحافیوں نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی کوریج کے لیے آئی سی سی کو ایکریڈیشن کی درخواستیں دی تھیں، تاہم تمام درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر چند صحافیوں کو ایکریڈیشن ملنے کی اطلاعات تھیں مگر بعد ازاں وہ اجازت نامے بھی منسوخ کر دیے گئے۔
امزاد حسین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مکمل رکن ملک کے صحافیوں کو اس طرح اجتماعی طور پر ایکریڈیشن سے محروم کیا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اگر کوئی ٹیم ایونٹ میں شرکت نہ بھی کرے تو آئی سی سی کم از کم اس ملک کے صحافیوں کو بطور ایسوسی ایٹ ممبرز ایکریڈیشن فراہم کرتی رہی ہے مگر اس بار ایسا نہیں کیا گیا۔
بنگلادیشی میڈیا کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے اس فیصلے نے صحافتی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے اور اسے آزادی صحافت پر قدغن قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر بنگلادیش کی اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشنز نے مشاورت شروع کر دی ہے اور جلد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان متوقع ہے۔
دوسری جانب بنگلادیشی ذرائع ابلاغ کے مطابق آئی سی سی کا یہ اقدام بنگلادیش کے ممکنہ بائیکاٹ فیصلے سے جوڑا جا رہا ہے، جس نے عالمی کرکٹ سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف بنگلادیشی صحافیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ ٹورنامنٹ کی غیر جانبدار کوریج پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے حوالے سے بھی یہ خبریں سامنے آ چکی ہیں کہ وہ بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں میچ نہ کھیلنے کے امکان پر غور کر رہا ہے جس کے باعث ایونٹ سے متعلق غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔