کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کی 55 ہزار بھرتیوں کا آغاز، آج ہی درخواست دیں

کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کی 55 ہزار بھرتیوں کا آغاز، آج ہی درخواست دیں

حکومت پنجاب نے مریم نواز کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر پروگرام 2026 کے تحت بھرتیوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت اہل خواتین ہیلتھ ورکرز کو ماہانہ 50 ہزار روپے تنخواہ پر ملازمت دی جائے گی۔ درخواستوں کی آخری تاریخ 16 اگست 2026 ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ عمر کی حد 43 سال رکھی گئی ہے۔

مریم نواز کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر پروگرام کا مقصد صوبے بھر میں صحت کی سہولیات کو گھر کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز اس پروگرام کو ایک تبدیلی لانے والا اقدام قرار دیتی ہیں جس کے تحت خواتین ہیلتھ ورکرز ’گھر گھر‘ صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے میدان عمل میں اتریں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب مائیں، بہنیں اور بیٹیاں میدان عمل میں آئیں گی تو کوئی بھی پنجاب کو شکست نہیں دے سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:آئینی بنچ نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی درخواست پر سماعت ملتوی کردی

یہ منصوبہ ایک جامع ڈیجیٹل ہیلتھ پروفائل بنانے کا تصور رکھتا ہے جس کے تحت ہر گھرانے کا مکمل صحت کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا، جس سے بیماریوں کی جلد تشخیص ممکن ہو سکے گی۔

وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ عوام کو اب سرکار کے پاس آنے کی ضرورت نہیں، بلکہ سرکار خود ان کے پاس پہنچے گی۔

اہلیت کے معیارات اور درخواست کا طریقہ کار

درخواست دہندگان کا پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل کے ساتھ رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے۔ اہل امیدواروں میں چارج نرس، لیڈی ہیلتھ وزیٹر، مڈوائف یا کمیونٹی مڈوائف اور فیملی ویلفیئر ورکرز شامل ہیں۔

تمام درخواست دہندگان کی عمر زیادہ سے زیادہ 43 سال ہونی چاہیے۔

اہل امیدوار سرکاری پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست جمع کرا سکتے ہیں اور اس سلسلے میں مزید معلومات پنجاب حکومت کی ہیلپ لائن 1033 پر حاصل کی جا سکتی ہیں۔

منتخب امیدواروں کو ان کے گھر کے قریب یا قریبی یونین کونسل میں ڈیوٹی تفویض کی جائے گی، جبکہ تمام اضلاع میں نشستیں دستیاب ہیں۔

ہزار ہیلتھ انسپکٹرز کی بھرتی اور ڈیجیٹل ہیلتھ انقلاب

اس پروگرام کے تحت 55 ہزار کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کی بھرتی کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے ان انسپکٹرز کو اپنی ’آنکھیں، کان اور فخر‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب ہر شعبے میں خود انحصار بن رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود انسپکٹرز کی یونیفارم ڈیزائن کرنے اور ان کے ٹول کٹس کی منظوری دینے میں دلچسپی لی۔

پروگرام کے تحت کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز بنیادی تشخیصی ٹیسٹ کر سکیں گے، جن میں بلڈ شوگر کی جانچ اور انجیکشن شامل ہیں۔ یہ منصوبہ ’کلینک آن وہیلز‘ اور فیلڈ ہسپتالوں کے ذریعے تقریباً 3 کروڑ افراد کو طبی سہولیات فراہم کر چکا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز نے 80 لاکھ گھرانوں اور 1 کروڑ گھروں کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے، جبکہ محکمہ کی جی آئی ایس ٹیم نے 58,571 علاقوں کی میپنگ مکمل کر لی ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طلبا اور ورکرز کے لیے برطانیہ کا نیا ای ویزا سسٹم متعارف

وزیراعلیٰ نے صحت کے شعبے میں اصلاحات کے لیے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل ہیلتھ سینسس کے تحت پنجاب کی 94.3 ملین آبادی کے ہیلتھ اور ڈیموگرافک پروفائلز رجسٹر کیے جا چکے ہیں۔

ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب ایک اہم سنگ میل

 واضح رہے کہ یہ پروگرام صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کو ٹیبلٹس سے لیس کیا جا رہا ہے اور وہ حقیقی وقت میں ڈیٹا کی بنیاد پر مریضوں کی ٹریکنگ کریں گے۔ پرفارمنس بیسڈ ادائیگی کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس سے جواب دہی اور معیار کو یقینی بنایا جائے گا۔

ڈیجیٹل ہیلتھ ڈیٹا بیس کی حفاظت کے لیے ایک جدید ڈیزاسٹر ریکوری سائٹ قائم کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ صحت کے مراکز کی تزئین و آرائش کا کام رواں سال مکمل کیا جائے اور سرکاری ہسپتالوں میں نرسنگ ڈگریوں کی نشستوں میں اضافہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں:پاکستان خلیجی ممالک سے 1.5 ٹریلین ڈالر کیسے کما سکتا ہے؟ پی آئی ڈی ای کا بڑا منصوبہ پیش

تاہم ماہرین اس پروگرام کے طویل مدتی استحکام اور فنڈنگ کے حوالے سے سوالات بھی اٹھاتے ہیں، کیونکہ 55 ہزار ہیلتھ انسپکٹرز کی تنخواہوں کا سالانہ بجٹ 3.3 ارب روپے بنتا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل ہیلتھ ڈیٹا کی رازداری اور تحفظ بھی ایک اہم چیلنج ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Related Articles