عمان سے لیکو فائیڈ پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) لے کر آنے والے دو بحری جہاز پاکستان پہنچ گئے ہیں، جن کے ذریعے مجموعی طور پر 7 ہزار 603 میٹرک ٹن گیس درآمد کی گئی ہے۔ ایل پی جی کی سپلائی بہتر ہونے کے بعد کل سے قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق ایل پی جی کے دونوں بحری جہاز بندرگاہ پر پہنچ چکے ہیں، جس سے ملک میں گیس کی دستیابی بہتر ہونے کی امید ہے۔ تاہم صارفین کو قیمتوں میں حقیقی ریلیف ملنے کا انحصار سپلائی اور مقامی مارکیٹ میں نرخوں کی صورتحال پر ہوگا۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے اعلامیے کے مطابق اکتوبر کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر ہے، لیکن ملک کے مختلف شہروں میں یہ گیس 600 سے 650 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔
دوسری جانب لاہور میں ایل پی جی فروخت کرنے والے دکانداروں کی دوسرے روز بھی ہڑتال جاری رہی، جس کے باعث دکانیں بند رہیں اور صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
شہروں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی فرق دیکھا جا رہا ہے۔ کوئٹہ میں 30 روپے فی کلو کمی کے بعد قیمت 520 روپے ہوگئی ہے، جبکہ پشاور میں گیس 570 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔ اٹک، راولپنڈی اور اسلام آباد میں فی کلو قیمت 600 روپے جبکہ کراچی میں 550 روپے ہے۔
ایل پی جی کی نئی کھیپ کی آمد سے سپلائی میں بہتری اور قیمتوں میں ممکنہ کمی کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم صارفین کو ریلیف ملنے کے لیے ضروری ہے کہ درآمدی گیس کا فائدہ مقامی مارکیٹ میں بھی منتقل ہو۔