پاکستان اور قطر نے دوحہ میں منعقدہ مشترکہ ٹاسک فورس کے دوسرا اجلاس کے دوران تجارت، سرمایہ کاری اور غذائی تحفظ کے فروغ کے لیے متعدد تفصیلی امور پر اتفاق کرتے ہوئے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہونے والا پاک قطر مشترکہ ٹاسک فورس کا یہ دوسرا اجلاس دونوں ممالک کے مابین معاشی سفارت کاری کے تناظر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس اہم اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور قطر کے وزیر مملکت برائے امورِ غیر ملکی تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید نے کی۔ اجلاس کے شرکاء نے اپریل 2026 میں منعقدہ ٹاسک فورس کے پہلے اجلاس کے بعد سے اب تک ہونے والی معاشی پیشرفت کا بغور جائزہ لیا اور باہمی تعاون کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
خلیجی معیشتوں کے ساتھ اسٹریٹجک تجارتی روابط
تاریخی طور پر پاکستان اور قطر کے تعلقات سیاسی اور دفاعی شعبوں میں انتہائی گرمجوش رہے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے اس شراکت داری کو تجارتی اور اقتصادی جہت دینے پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔
قطر کی ابھرتی ہوئی معیشت اور توانائی کے شعبے میں اس کی عالمی پوزیشن پاکستان کے لیے خوراک، افرادی قوت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے۔
اس پس منظر میں موجودہ ٹاسک فورس کا انعقاد دونوں برادر ممالک کے مابین معاشی انضمام کی طرف ایک فیصلہ کن قدم ہے۔
آزاد تجارت معاہدہ اور گوشت کی درآمد کا معاملہ
اجلاس کے دوران پاکستانی وفد نے پاکستان اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے درمیان آزاد تجارت کے معاہدے پر جلد از جلد دستخط کرنے کی شدید ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ ملکی سطح پر تمام آئینی اور قانونی منظوری کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اب قطر اس ضمن میں بقیہ تکنیکی و سفارتی حتمی کارروائیوں کو مکمل کرنے میں تعاون فراہم کرے۔
مزید برآں پاکستان نے قطر پر زور دیا کہ وہ ہڈی والے گوشت کی درآمد پر عائد پابندی کو فوری طور پر ختم کرے، کیونکہ جانوروں کی صحت اور فوڈ سیفٹی سے متعلق تمام جامع تکنیکی دستاویزات قطری حکام کے حوالے کی جا چکی ہیں۔
چاول کی فراہمی، زراعت اور غذائی تحفظ کے منصوبے
خوراک کی فراہمی کے نظام کو مستحکم کرنے کے لیے دونوں اطراف سے پاکستان اور قطر کے درمیان چاول کی سپلائی کے لیے ایک سرکاری معاہدے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان اور قطر کی حصاد فوڈ کے درمیان طے پانے والے اس مجوزہ معاہدے کی سمری حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو ارسال کر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان نے قطر کو جدید زراعت، اناج کی ذخیرہ اندوزی، کولڈ چین کی سہولیات اور زرعی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی پرکشش دعوت دی تاکہ خطے میں غذائی تحفظ کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نبردآزما ہوا جا سکے۔
الیکٹرک گاڑیاں، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سمندری نقل و حمل
موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق دونوں ممالک نے الیکٹرک اور جدید توانائی کی گاڑیوں کے شعبے میں جوائنٹ مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان نے قطری سرمایہ کاروں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور آئی ٹی سروسز میں سرمایہ کاری کی پرکشش پیشکش کی۔
اجلاس میں سمندری نقل و حمل اور جہاز رانی میں تعاون بڑھانے کے طریقوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جہاں پاکستان نے تیل کے ٹینکرز، ایل این جی کیریئرز اور کنٹینر بردار جہازوں کے شعبے میں اشتراک کی بھرپور صلاحیت کو اجاگر کیا۔
کراچی تا حیدرآباد موٹروے اور ایوی ایشن تعاون
رابطہ کاری کے فروغ کے لیے پاکستان نے مجوزہ نئے ’کراچی تا حیدرآباد موٹروے‘ منصوبے کو قطر کے لیے سرمایہ کاری کے ایک بہترین سنہری موقع کے طور پر پیش کیا۔
حکام کے مطابق اس پروجیکٹ سے ملکی بندرگاہوں کے باہمی روابط بہتر ہوں گے اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ علاقائی تجارت کو نیا فروغ ملے گا۔ دوسری جانب قطر نے سول ایوی ایشن اور فضائی روابط کو وسیع کرنے کی اہمیت پر زور دیا، جسے پاکستانی جانب سے انتہائی سراہا گیا۔
علاوہ ازیں، ایک نئے مجوزہ انویسٹمنٹ فنڈ کے قیام اور ترجیحی شعبوں میں مواقع پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
تکنیکی ورکنگ گروپس کا فعال کردار اور اگلا لائحہ عمل
معاشی سفارت کاری کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے پاکستان نے زراعت، معدنیات، صنعت، تعلیم، صحت، سیاحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت 11 تکنیکی ورکنگ گروپس کو فوری طور پر فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستانی حکام نے اپنے نامزد کردہ نمائندگان کی تفصیلات قطر کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے درخواست کی کہ قطر بھی اپنے نمائندگان کی جلد نامزدگی کرے۔
یہ طے پایا کہ یہ تمام ورکنگ گروپس پاکستان میں منعقد ہونے والے تیسرے اجلاس سے قبل تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر اپنی جامع پیشرفت رپورٹس تیار کریں گے۔ اجلاس کے اختتام پر دونوں شریک صدور نے مشترکہ ٹاسک فورس کے پہلے اجلاس کے منٹس پر باضابطہ دستخط کیے۔
عالمی سرمایہ کاری کے تناظر میں اہم سفارتی ملاقاتیں
دوحہ کے اس دورے کے دوران وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے عالمی انویسٹمنٹ فورم کی سربراہ نین لی کولنز سے بھی ایک اہم علیحدہ ملاقات کی۔
اس ملاقات میں علاقائی سیکیورٹی صورتحال، عالمی معاشی چیلنجز، باہمی اقتصادی رابطوں اور مشترکہ نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط اور متحد کوششوں کی ضرورت پر گہرے خیالات کا تبادلہ کیا گیا۔
خطے میں بدلتی ہوئی تجارتی حرکیات کا جائزہ
خلیجی ریاستوں اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا یہ اقتصادی انضمام دراصل ایک نئے علاقائی تجارتی نقشے کی تشکیل کا پیش خیمہ ہے۔
جس طرح پاکستان روایتی برآمدات سے نکل کر اب ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، فوڈ سیکیورٹی، موٹروے کوریڈورز اور ہیوی انڈسٹری کی طرف قدم بڑھا رہا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملکی معیشت طویل مدتی اسٹریٹجک شراکت داری کی طرف گامزن ہے۔
قطر کی جانب سے زراعت اور بندرگاہوں کے شعبوں میں دلچسپی ظاہر کرنا اس امر کا غماز ہے کہ خلیجی سرمایہ کار پاکستان کے طویل مدتی معاشی امکانات پر گہرا اعتماد رکھتے ہیں، جو مستقبل میں زرمبادلہ کے ذخائر اور صنعتی ترقی کے لیے انتہائی بارآور ثابت ہوگا۔