پی ٹی آئی افغانستان اورطالبان کی تابعداری کرنا چاہتی تھی،پرویز خٹک

پی ٹی آئی افغانستان اورطالبان کی تابعداری کرنا چاہتی تھی،پرویز خٹک

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) طالبان اور افغانستان کی تابعداری اور حمایت کرنا چاہتی تھی،نوشہرہ میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پرویز خٹک سے ملاقات کی، جس کے دوران صوبے کے مسائل اور ترقیاتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پرویز خٹک نے سیاست میں طویل عرصہ گزارا ہے اور اپنے دورِ حکومت میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر صوبے کی ترقی کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا مقصد باہمی مشاورت کے ذریعے صوبے کو آگے لے جانا اور وفاق کے ساتھ مسائل کے حل کے لیے راستے تلاش کرنا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی ترقی کے لیے وفاق کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔

گورنر خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دورۂ پشاور کے دوران مختلف مسائل کا جائزہ لیا اور ان کے حل کے لیے اقدامات کیے۔

یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی کے 13 سالہ غفلت کے دور کا خاتمہ، مردان ڈی ایچ کیو ہسپتال کی زیر التواعمارت کیلئے 40 کروڑ منظور، تکمیل کی راہ ہموار

اس موقع پر پرویز خٹک نے کہا کہ فیصل کریم کنڈی کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلقات ہیں اور ملاقات میں صوبے کے مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دورِ حکومت میں شروع کیے گئے ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے،پرویز خٹک نے واضح کیا کہ وہ فی الحال آزاد حیثیت میں ہیں اور کسی دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت کا ارادہ نہیں رکھتے۔

گورنر راج کے حوالے سے سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا اور سیاسی طور پر ایسا قدم اچھا نہیں سمجھا جاتا، تاہم ان کے بقول حالات اس نہج پر پہنچ گئے تھے کہ مجبوری میں گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی ٹی آئی میں کوئی سوچنے سمجھنے والا ہوتا تو ایسی صورتِ حال پیدا نہ ہوتی،پرویز خٹک نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی طالبان اور افغانستان کی تابعداری اور حمایت کرنا چاہتی تھی۔

editor

Related Articles