کالعدم ایکشن کمیٹی کے شر پسند جتھے کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی، قانون نافذ کرنیوالے اداروں پر الزامات بے بنیاد اور جھوٹے نکلے

کالعدم ایکشن کمیٹی کے شر پسند جتھے کی فائرنگ سے ایک شخص زخمی، قانون نافذ کرنیوالے اداروں پر الزامات بے بنیاد اور جھوٹے نکلے

ضلع باغ کے علاقے کوٹھیاں کے قریب دھرنے کے دوران کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنان سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص شدید زخمی ہو گیا لیکن  تنظیم کی جانب سے واقعہ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے گمراہ اور غلط انداز میں جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق شہید آباد، باڑی  (تحصیل و ضلع باغ) کے رہائشی احسان اختر ولد اختر اپنے ساتھیوں کے ساتھ دھرنے کے قریب موجود تھے کہ اس دوران اس کے ایک ساتھی کے پاس موجود پسٹل سے اچانک فائر ہو گیا ،حادثاتی فائرنگ کے نتیجے میں احسان اختر گولی لگنے سے زخمی ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے فوراً بعد زخمی کے ساتھی اسے طبی امداد کے لیے راولاکوٹ  کی طرف کسی نامعلوم مقام ہسپتال لے گئے لیکن  کالعدم ایکشن کمیٹی  کے کارکنان کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ احسان اختر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے ہیں جو کہ گمراہ کن اور بے بنیاد ہے ۔

حقیقیت تو یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ایسے کسی واقعہ یا فائرنگ کی ہرگز تصدیق نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی علاقے میں سیکورٹی فورسز یا پولیس کی کوئی نئی پیش قدمی یا حرکت رپورٹ ہوئی ہے ، حقائق کے مطابق یہ صرف کارکنان کا باہمی اور اتفاقی حادثہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں : بلوچستان کے شہریوں کیخلاف زہریلا پروپیگنڈا بے نقاب، ایکس پر جعلی افغان ہینڈل کے دعوے کی حقیقت کھل گئی

سیکورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں اس قسم کے جھوٹے اور من گھڑت ڈرامے رچانا شرپسند عناصر کی پرانی حکمتِ عملی کا حصہ ہے تاکہ عوام میں خوف و ہراس اور اداروں کے خلاف غصہ پھیلایا جا سکے۔

 تاہم حقیقت سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو چکا ہے کہ واقعہ ان کا خودساختہ من گھڑت رچایا ڈرامہ تھا  جس کا اداروں کی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ، انتظامیہ نے عوام کو ایسے کسی بھی گمراہ کن پروپیگنڈے پر کان نہ دھرنے کی ہدایت کی ہے۔

editor

Related Articles