مصنوعی ذہانت کی دنیا میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت ایک ایسے مستقبل کی طرف اشارہ کر رہی ہے جہاں مختلف کاموں کے لیے موبائل فون پر الگ الگ ایپس کھولنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔
معروف اے آئی محقق آندرے کارپاٹھی کا تیار کردہ اے آئی ایجنٹ ’ڈوبی‘ اسی تصور کی ایک مثال ہے۔ یہ نظام سادہ احکامات کے ذریعے مختلف ڈیجیٹل اور گھریلو کام انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ڈوبی کیسے کام کرتا ہے؟
آندرے کارپاٹھی کے مطابق ڈوبی ان کے گھر میں موجود مختلف منسلک نظاموں کو کنٹرول کرسکتا ہے، جن میں موسیقی، لائٹس اور سیکیورٹی سسٹمز شامل ہیں۔ اس کے لیے صارف کو ہر کام کے لیے الگ ایپ کھولنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس کے بجائے صارف اے آئی ایجنٹ کو اپنا مطلوبہ کام بتاتا ہے اور ڈوبی متعلقہ ڈیوائس تک رسائی حاصل کرکے اسے انجام دیتا ہے۔
یہ نظام مقامی نیٹ ورک کو اسکین کرکے اس سے منسلک آلات کی شناخت کرسکتا ہے اور پھر دستیاب طریقوں کے ذریعے ان کے ساتھ رابطہ قائم کرکے دی گئی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔
ایک اے آئی، کئی ایپس کا کام
عام طور پر گھر کی لائٹس، میوزک سسٹم اور سیکیورٹی ڈیوائسز کے لیے الگ الگ ایپس استعمال کرنا پڑتی ہیں۔ ڈوبی کا تصور اس طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یعنی صارف مختلف ایپس میں جانے کے بجائے ایک ہی اے آئی ایجنٹ سے بات کرکے متعدد کام کروا سکتا ہے۔ آندرے کارپاٹھی کے مطابق مستقبل میں لوگ روایتی ایپس کے انٹرفیس میں مختلف آپشنز تلاش کرنے کے بجائے گفتگو کے ذریعے اے آئی ایجنٹس کو ہدایات دے سکتے ہیں۔
ابھی ابتدائی مرحلے میں
ڈوبی فی الحال ابتدائی مرحلے میں ہے اور اسے ترتیب دینے اور استعمال کرنے کے لیے تکنیکی معلومات کی ضرورت پڑتی ہے۔ تاہم یہ تصور اے آئی کے ایک ایسے رجحان کی جانب اشارہ کرتا ہے جس میں خود مختار اے آئی ایجنٹس صارف کی ہدایات کو سمجھ کر مختلف ڈیجیٹل کام خود انجام دے سکیں گے۔
اگر یہ ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر عام ہوگئی تو مستقبل میں موبائل ایپس کے ذریعے ایک ایک کام کرنے کے بجائے صارف صرف اپنی ضرورت بتائے گا اور اے آئی ایجنٹ متعلقہ کام خود مکمل کرے گا۔


