گلگت بلتستان انتخابات، مسلم لیگ ن اور جماعتِ اسلامی میں اتحاد قائم

گلگت بلتستان انتخابات، مسلم لیگ ن اور جماعتِ اسلامی میں اتحاد قائم

گلگت بلتستان کی سیاست میں ایک بڑی اور ڈرامائی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان مسلم لیگ ن اور جماعتِ اسلامی نے آئندہ انتخابات کے لیے باقاعدہ انتخابی اتحاد کا اعلان کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئے سیاسی جوڑ توڑ کے نتیجے میں دونوں جماعتوں نے 2 انتہائی اہم اور حساس حلقوں میں مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے حریف جماعتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سرکاری ملازمین کی آواز بن گئے

معاہدے کے تحت استور حلقہ 2 اور گلگت حلقہ 2 سے جماعتِ اسلامی کے نامزد امیدوار مسلم لیگ ن کے حق میں انتخابی میدان سے دستبردار ہو گئے ہیں۔

مرکزی قیادت کی مشاورت اور سیاسی پس منظر

مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے صوبائی صدر اور سابق وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے اس اتحاد کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ یہ اہم فیصلہ دونوں جماعتوں کی مرکزی قیادت کی اعلیٰ سطح پر مشاورت اور باہمی رضامندی کے بعد کیا گیا ہے۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے انتخابی منظرنامے میں اس مثبت فیصلے پر جماعتِ اسلامی کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اتحاد خطے کی ترقی میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔

دوسری جانب جماعتِ اسلامی گلگت بلتستان کے سابق امیر مولانا عبد السمیع نے اس اتحاد کا دفاع کرتے ہوئے ایک اہم پس منظر بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2015 کے دورِ حکومت میں مسلم لیگ ن نے گلگت بلتستان میں شاندار کارکردگی دکھائی تھی اور خطے میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ اسی اچھی کارکردگی اور عوامی خدمت کے ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے جماعتِ اسلامی نے ن لیگ کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ کیا ہے اور اپنے امیدواروں کو ان کے حق میں بٹھا دیا ہے تاکہ ووٹ بینک کی تقسیم کو روکا جا سکے اور ایک مضبوط حکومت قائم ہو۔

انتخابی میدان پر اس اتحاد کے اثرات

واضح رہے کہ استور حلقہ 2 اور گلگت حلقہ 2 گلگت بلتستان کی سیاست میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان حلقوں میں جماعتِ اسلامی کا ایک مخلص اور منظم ووٹ بینک موجود ہے جو ہر الیکشن میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔

جماعتِ اسلامی کے امیدواروں کے دستبردار ہونے سے اب یہ پورا روایتی ووٹ بینک براہِ راست مسلم لیگ ن کے پلڑے میں چلا جائے گا، جس سے ن لیگ کے امیدواروں کی پوزیشن اپنے حریفوں، بالخصوص پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مقابلے میں انتہائی مضبوط ہو گئی ہے۔

ن لیگ کے لیے مولانا عبد السمیع کا یہ بیان کہ ’2015ء میں ن لیگ کی کارکردگی اچھی تھی‘، ایک بہت بڑا سیاسی سرٹیفکیٹ ہے۔ ن لیگ اس بیانیے کو پورے گلگت بلتستان میں اپنے انتخابی مہم کے دوران پبلک آرڈر کے طور پر استعمال کرے گی۔

یہ اتحاد ظاہر کرتا ہے کہ گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے جماعتیں ابھی سے گرینڈ الائنس کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اگر یہ اتحاد دیگر حلقوں تک پھیلتا ہے تو اپوزیشن جماعتوں کے لیے انتخابی میدان مارنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

Related Articles