ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایرانی میڈیا نے ممکنہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے نفاذ سے متعلق چار مرحلوں پر مشتمل رُوٹ میپ کی تفصیلات سامنے آنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی فارس کی رپورٹ کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہو جاتا ہے تو اسے مرحلہ وار چار مختلف ادوار میں نافذ کیا جائے گا۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مذاکرات تاحال جاری ہیں اور ابھی کسی حتمی معاہدے یا فیصلے تک نہیں پہنچا گیا۔
فارس نیوز نے ایرانی مذاکراتی ٹیم سے وابستہ ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ تہران کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں لبنان سے متعلق معاملات اور خطے کی مجموعی صورتحال کو نظر انداز کیا گیا ہو۔ ذریعے کے مطابق امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے نئے مسودے پر ایران نے ابھی تک باضابطہ جواب نہیں دیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ رواں ہفتے کے اختتام تک ممکن ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور اہم معاملات پر پیش رفت ہو رہی ہے۔
ادھر ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ حالیہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ ایران کو دھمکیوں اور دباؤ کے ذریعے جھکانے کا دور ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قوم نے امریکا اور اسرائیل کے دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنی استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔
قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی گئی تو اس کا جواب سخت فیصلہ کن اور عبرتناک ہوگا۔ ان کے بقول ایران اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔