مہنگائی کا طوفان، برائلر مرغی اور فارمی انڈوں کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

مہنگائی کا طوفان، برائلر مرغی اور فارمی انڈوں کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

صوبائی دارالحکومت لاہور کی اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا راج بدستور قائم ہے اور روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں روزبروز ہونے والے مسلسل اضافے نے شہریوں کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔

اوپن مارکیٹ کے حالیہ سروے کے مطابق غریب اور سفید پوش طبقے کے لیے پروٹین کا سستا ترین ذریعہ سمجھی جانے والی برائلر مرغی اور انڈے اب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔

مرغی کے گوشت اور انڈوں کے نئے نرخ

میڈیا رپورٹ کے مطابق لاہور میں برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں یکدم ایک بڑا اچھال دیکھا گیا ہے، جہاں گوشت کی قیمت 417 روپے سے بڑھ کر 500 روپے فی کلو کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مہنگائی میں کمی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، بجٹ میں عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کرینگے،وزیرخزانہ

اسی طرح اوپن مارکیٹ میں فارمی انڈوں کی قیمتیں بھی عام صارفین کو پریشان کر رہی ہیں اور انڈے 239 روپے سے لے کر 245 روپے فی درجن تک میں فروخت ہو رہے ہیں، جس سے کچن کا بجٹ بری طرح متاثر ہوا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ سے برائلر گوشت کی قیمت میں روزانہ کی بنیاد پر باقاعدگی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ غریب کے دسترخوان سے غائب ہو چکی ہے۔

انہوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور اپیل کی ہے کہ برائلر گوشت اور انڈوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور مارکیٹ میں استحکام لانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

پولٹری انڈسٹری کا بحران اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ

پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں پولٹری کی صنعت گزشتہ کچھ عرصے سے شدید بحران کا شکار رہی ہے۔ سال 2025 اور سال 2026 کے دوران مرغیوں کی خوراک (پولٹری فیڈ) کے خام مال کی درآمدات میں تاخیر اور پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے فیڈ کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔

اس کے علاوہ، بجلی کے مہنگے ٹیرف نے پولٹری فارمرز کے اخراجات میں ریکارڈ اضافہ کر دیا، جس کی وجہ سے بہت سے چھوٹے فارمز بند ہو گئے۔ سپلائی میں اس بڑی کمی اور طلب میں برقرار رہنے والے اضافے کی وجہ سے مارکیٹ میں برائلر مرغی اور انڈوں کی قیمتیں مسلسل ریکارڈ توڑ رہی ہیں۔

سرکاری نرخ نامے اور اوپن مارکیٹ کا تضاد

تاجروں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے روزانہ جاری ہونے والا سرکاری نرخ نامہ صرف کاغذات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ دکاندار اوپن مارکیٹ میں من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:بجٹ میں مہنگائی کم کریں ،عوام کو زیادہ ریلیف دیں،شہباز شریف کو نوازشریف کی ہدایت

لاہور کے مختلف علاقوں جیسے صدر، گلبرگ، سمن آباد اور شادباغ میں مرغی کا گوشت مختلف نرخوں پر فروخت ہو رہا ہے۔ پولٹری ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا مؤقف ہے کہ جب تک حکومت فارمرز کو چوزوں اور فیڈ کی قیمتوں پر ریلیف نہیں دیتی، تب تک پیداواری لاگت کم ہونا ممکن نہیں ہے اور قیمتیں اسی طرح مارکیٹ کے رحم و کرم پر رہیں گی۔

پرائس کنٹرول میکانزم کی ناکامی اور معاشی اثرات

لاہور کی مارکیٹ میں برائلر گوشت کا 500 روپے کلو تک پہنچنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شہر میں پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور ضلعی انتظامیہ کا کنٹرول کمزور ہو چکا ہے۔

مرغی کا گوشت، جو کبھی متبادل کے طور پر سستا گوشت سمجھا جاتا تھا، اب ایک لگژری آئٹم بنتا جا رہا ہے، جس سے معاشرے میں غذائی قلت کا خطرہ مزید بڑھ جائے گا۔

یہ تجزیہ اس حقیقت کو بھی عیاں کرتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف طلب اور رسد کا نہیں ہے، بلکہ پولٹری سیکٹر میں مڈل مین اور بڑے کارٹلز کی اجارہ داری کا نتیجہ ہے جو مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔

اگر حکومت نے فیڈ مافیا اور منافع خوروں کے خلاف فوری طور پر سخت کریک ڈاؤن نہ کیا، تو آنے والے دنوں میں انڈے اور مرغی کی قیمتیں عام شہری کی پہنچ سے بالکل باہر ہو جائیں گی، جس کا اثر براہِ راست عوامی صحت پر پڑے گا۔

Related Articles