سائنس اور بایوٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں محققین نے ایسے پودے تیار کیے ہیں جو بغیر کسی بجلی یا چارجنگ کے خود بخود روشنی خارج کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس عمل میں ڈی این اے کی منتقلی کی جدید تکنیک استعمال کی گئی۔ سائنسدانوں نے چمکنے والی مشرومز اور جگنوؤں میں موجود وہ جین الگ کیے جو روشنی پیدا کرنے والے کیمیکل ’لوسیفرین‘ اور ’لوسیفریز‘ بنانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
ان جینز کو پھر مختلف پودوں جیسے تمباکو اور پیٹونیا کے خلیات میں شامل کیا گیا، جس کے بعد یہ پودے اپنی قدرتی توانائی کے ذریعے خود ہی روشنی پیدا کرنے لگے۔
اس جدید تحقیق کے نتیجے میں مارکیٹ میں بھی ایسے پودے آ چکے ہیں۔ بایوٹیک کمپنی ’لائٹ بائیو‘نے ’’فائر فلائی پیٹونیا‘‘کے نام سے ایک پودا متعارف کروایا ہے جسے امریکی محکمہ زراعت نے تجارتی سطح پر فروخت کی اجازت دی ہے۔
یہ پودا رات کے وقت ہلکی سبز روشنی خارج کرتا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ اسے کسی بیرونی بجلی یا چارجنگ کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ یہ اپنی اندرونی حیاتیاتی توانائی سے روشن رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ ایک بڑی سائنسی کامیابی ہے، تاہم فی الحال اس ٹیکنالوجی میں کچھ حدود بھی موجود ہیں۔ ان پودوں کی روشنی اس قدر مدہم ہے کہ یہ سڑکوں یا اسٹریٹ لائٹس کا متبادل نہیں بن سکتے، بلکہ انہیں زیادہ تر سجاوٹ یا کم روشنی والے مقامات پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانے پر کام جاری ہے تاکہ ایسے پودے تیار کیے جا سکیں جو اپنی صحت کو متاثر کیے بغیر زیادہ روشن روشنی پیدا کر سکیں۔
یہ پیش رفت اس تصور کو حقیقت کے قریب لے آتی ہے کہ مستقبل میں پارکس اور باغات قدرتی طور پر روشن ہو سکتے ہیں، تاہم اس کے لیے ابھی مزید تحقیق اور وقت درکار ہے۔