ایران کے سپریم لیڈر کے سینیئر مشیر محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ بحیرۂ کیسپیئن میں ایرانی تجارتی جہاز پر مبینہ حملے کے بعد ایران یوکرین کے 3 مقامات پر حملے کے لیے تیار تھا، تاہم یوکرین کی جانب سے مبینہ معذرت کے بعد یہ فیصلہ روک دیا گیا۔ انہوں نے امریکا، آبنائے ہرمز اور خطے کی سکیورٹی صورتحال سے متعلق بھی سخت مؤقف اختیار کیا۔
یوکرین کے خلاف کارروائی کی تیاری کا دعویٰ
ایرانی سپریم لیڈر کے سینیئر مشیر محسن رضائی نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ بحیرۂ کیسپیئن میں ایک ایرانی تجارتی جہاز پر یوکرین کے مبینہ حملے کے بعد ایران کی مسلح افواج نے یوکرین کے 3 مختلف مقامات پر جوابی حملوں کی مکمل تیاری کر لی تھی۔
ان کے مطابق یہ کارروائی آخری مراحل میں تھی تاہم یوکرین کی جانب سے مبینہ طور پر معذرت کیے جانے کے بعد ایرانی قیادت نے حملے کا فیصلہ روک دیا۔ انہوں نے اس مبینہ معذرت یا واقعے سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
امریکا کے خلاف کارروائیوں سے متعلق بھی دعوے
محسن رضائی نے اپنے انٹرویو میں ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 40 روزہ جنگ کے آخری دنوں میں ایران نے امریکی فوجی اڈوں پر زیادہ درست ڈرون اور میزائل حملے کیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں کویت میں موجود ایک امریکی اڈے کو شدید نقصان پہنچا، امریکی فوجیوں نے عراق کے شہر اربیل میں اپنی موجودگی ختم کر دی اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈروں کو اردن سے اسرائیل منتقل کر دیا گیا۔ رضائی کے مطابق یہی عوامل امریکا کے ممکنہ زمینی حملے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے۔
آبنائے ہرمز پر سخت مؤقف
ایرانی رہنما کے سینیئر مشیر نے آبنائے ہرمز کی اسٹرٹیجک اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی صورت ایسا راستہ قبول نہیں کرے گا جو آبنائے ہرمز میں اس کے مفادات کو نظرانداز کرے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز میں اپنا جہاز بھی لاتا ہے تو ایران اسے نشانہ بنائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی سمندری حدود اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
محسن رضائی کون ہیں؟
محسن رضائی ایران عراق جنگ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے اہم کمانڈروں میں شمار ہوتے رہے ہیں اور بعد ازاں مختلف اعلیٰ حکومتی اور عسکری مشاورتی مناصب پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ اس وقت ایرانی سپریم لیڈر کے سینیئر مشیر کی حیثیت سے اہم قومی اور سیکیورٹی معاملات پر اپنی رائے دیتے رہتے ہیں۔
ایران، امریکا اور یوکرین کے درمیان تعلقات گزشتہ چند برسوں سے مختلف علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات کے باعث کشیدہ رہے ہیں۔
ایران پر یوکرین جنگ میں روس کو عسکری تعاون فراہم کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، جن کی تہران مختلف مواقع پر تردید یا وضاحت کرتا آیا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
محسن رضائی کے حالیہ بیانات خطے میں جاری جغرافیائی اور عسکری کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں، تاہم ان میں کیے گئے متعدد دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ان بیانات کو ایرانی مؤقف کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
اگر ایران اور یوکرین کے درمیان اس نوعیت کا واقعہ واقعی پیش آیا ہو تو یہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے پہلو کا اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق سخت بیانات اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتے ہیں کہ ایران اس سمندری گزرگاہ کو اپنی قومی سلامتی اور علاقائی حکمت عملی کا بنیادی حصہ سمجھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں ایسے بیانات سفارتی دباؤ بڑھانے، دفاعی حکمت عملی کا اظہار کرنے اور علاقائی طاقت کے توازن پر اثر ڈالنے کی کوشش بھی ہو سکتے ہیں۔ تاہم کسی بھی ممکنہ پیش رفت کا انحصار آئندہ سفارتی روابط، بین الاقوامی ردعمل اور زمینی صورتحال پر ہوگا۔