پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف وفاقی حکومت نے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر سخت ترین کریک ڈاؤن کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین احکامات کے مطابق، ملک بھر میں بغیر درست ویزے کے رہائش پذیر اور ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد غیرقانونی طور پر اوور اسٹے کرنے والے افغان شہریوں کو 10 جولائی سے باقاعدہ گرفتار کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ نے اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تمام صوبوں اور وفاقی اکائیوں کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔
چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کو خطوط ارسال
وفاقی وزارت داخلہ نے اس گرینڈ آپریشن کے لیے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکریٹریز سمیت چیف کمشنر اسلام آباد کو باضابطہ اور ہنگامی خطوط ارسال کر دیے ہیں۔
ان خطوط میں واضح ہدایت کی گئی ہے کہ جن افغان شہریوں کے ویزے کی مدت ختم ہو چکی ہے، ان کی ملک بدری کے عمل کو تیز کیا جائے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی نرمی نہ برتی جائے۔
ڈپٹی کمشنرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہنگامی احکامات
وزارت داخلہ کے خط میں تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ رہنے اور فیصلے پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔
مزید برآں وزارت داخلہ نے مانیٹرنگ کے نظام کو سخت کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ 11 جولائی سے روزانہ کی بنیاد پر وفاق کو تفصیلی رپورٹ ارسال کی جائے۔
اس روزانہ کی رپورٹ میں بغیر ویزے کے گرفتار ہونے والے افغان شہریوں کی درست تعداد، ان کے خلاف کی جانے والی قانونی کارروائی اور ان کی موجودہ حیثیت کی تمام تفصیلات شامل ہونا لازمی قرار دی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ یہ حتمی فیصلہ غیرقانونی غیرملکیوں کی وطن واپسی کے پلان کے اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں کیا گیا۔
حکومتِ پاکستان نے ملکی معیشت، سیکیورٹی اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پیشِ نظر ‘غیرقانونی غیرملکیوں کی وطن واپسی کا پلان’ تیار کیا تھا، جس کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں لاکھوں غیرقانونی افغان باشندوں کو واپس ان کے ملک بھیجا جا چکا ہے۔
پاکستان کا ہمیشہ سے یہ اصولی مؤقف رہا ہے کہ وہ قانونی دستاویزات اور ویزے کے ساتھ آنے والے تمام غیر ملکیوں کا خیرمقدم کرتا ہے، تاہم بغیر دستاویزات یا ویزے کی میعاد ختم ہونے کے بعد ملک میں قیام کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ حالیہ سیکیورٹی صورتحال اور پاک-افغان سرحد پر کشیدگی کے تناظر میں اس پالیسی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
اسٹرٹیجک فوائد
10 جولائی سے شروع ہونے والا یہ کریک ڈاؤن پاکستان کی داخلی سیکیورٹی اور اسٹرٹیجک استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ طلب کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس بار حکومت اس پلان پر صرف علامتی نہیں بلکہ سو فیصد عملی اور سخت ترین کارروائی چاہتی ہے۔
واضح رہے کہ بغیر ویزے یا اوور اسٹے کرنے والے افراد کا ڈیٹا برقرار رکھنا ریاستی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے، اور اکثر جرائم یا مشکوک سرگرمیوں میں ایسے عناصر کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے جن کا کوئی قانونی ریکارڈ موجود نہ ہو۔