افغان فوج کے سابق کمانڈر جنرل سمیع سادات کی پاکستان کے عوام کو یومِ آزادی کی مبارکباد

افغان فوج کے سابق کمانڈر جنرل سمیع سادات کی  پاکستان کے عوام کو یومِ آزادی کی مبارکباد

افغان فوج کے سابق کمانڈر جنرل سمیع سادات نے پاکستان کے عوام کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے پاکستان اور طالبان مخالف افغان فورسز کے درمیان سکیورٹی تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔

جنرل سمیع سادات نے 14 اگست کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر جاری اپنے پیغام میں پاکستانی عوام کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خاتمے اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ افغان یونائیٹڈ فرنٹ کی حمایت کریں۔ سادات نے اس گروپ کو طالبان کے خلاف وسیع تر مزاحمت کا حصہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان اور طالبان مخالف افغان فورسز کے درمیان بہتر رابطہ دونوں ممالک کے سکیورٹی مفادات کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

جنرل سادات کا کہنا تھا کہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے سے مشروط ہے۔ انہوں نے پاکستان اور افغان یونائیٹڈ فرنٹ کے درمیان طالبان سے منسلک قرار دیے جانے والے خطرات کے خلاف مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان: بدخشان میں طالبان اور افغان یونائیٹڈ فرنٹ کے درمیان جھڑپیں، ہلاک اور زخمی ہونے والے طالبان کی ہیلی کاپٹر سے منتقلی کی ویڈیو سامنے آگئی

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں عسکریت پسند سرگرمیوں کے حوالے سے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ پیش رفت نے افغانستان میں طالبان مخالف حلقوں کی جانب سے پڑوسی ممالک کے ممکنہ کردار کے حوالے سے جاری سیاسی و سکیورٹی بحث کو بھی نمایاں کردیا ہے۔

دوسری جانب پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق کرم کے سرحدی علاقے میں پاکستانی چوکیوں پر حملے کے جواب میں پاکستانی فورسز نے کارروائی کی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ افغانستان میں موجود طالبان فورسز نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر بھاری ہتھیاروں، مارٹرز اور دیگر اسلحے سے فائرنگ کی، جس کے بعد پاکستانی فورسز نے توپ خانے سمیت ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے جوابی کارروائی کی۔

پاکستانی ذرائع کے مطابق جوابی کارروائی میں افغانستان کے اندر متعدد ایسے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جنہیں افغان طالبان سے منسوب کیا گیا، جن میں مارٹر پوزیشنز اور دفاعی مورچے شامل تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے بعد پاکستانی فوجیوں نے متاثرہ سرحدی علاقوں کا کنٹرول برقرار رکھا اور طالبان جنگجوؤں کو بعض پوزیشنز سے پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔

تاہم، سرحدی جھڑپوں سے متعلق فریقین کے دعوے اور تفصیلات میں اختلاف پایا جاسکتا ہے، جبکہ طالبان حکام ماضی میں افغانستان کی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہونے دینے کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: افغان تعلیمی نظام طالبان کے شکنجے میں، خطرناک نظریات کے فروغ سے متعلق لووی انسٹیٹیوٹ کی ہولناک رپورٹ

حالیہ کشیدگی نے اسلام آباد اور کابل کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ پاکستان مسلسل افغانستان کی سرزمین سے سرگرم عسکریت پسند گروہوں سے متعلق سکیورٹی خدشات اٹھاتا رہا ہے، جبکہ طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

ایسے ماحول میں جنرل سمیع سادات کا یومِ آزادی کا پیغام بیک وقت پاکستان کے لیے خیرسگالی اور طالبان کے خلاف وسیع تر سکیورٹی شراکت داری کی اپیل پر مشتمل ہے۔ ان کی جانب سے افغان یونائیٹڈ فرنٹ کے ساتھ تعاون کی تجویز افغانستان کے پیچیدہ سیاسی منظرنامے کی بھی عکاسی کرتی ہے، جہاں طالبان مخالف شخصیات بین الاقوامی حمایت کے حصول کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

سادات کے مطابق پاکستان اور طالبان مخالف افغان فورسز کے درمیان قریبی رابطہ خطے میں وسیع تر استحکام میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ تاہم اسلام آباد کے لیے کسی بھی ممکنہ تعاون کا معاملہ ایک ایسے حساس سکیورٹی ماحول میں سامنے آئے گا جہاں سرحدی جھڑپیں، عسکریت پسندوں کے خطرات اور طالبان حکام کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بیک وقت اہم عوامل ہیں۔

ماہرین کے لیے یہ صورتحال اس امر کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ایک پائیدار سکیورٹی فریم ورک تشکیل دینا بدستور ایک بڑا چیلنج ہے۔ مسلسل کشیدگی کے دوران فریقین کے درمیان مؤثر رابطہ، سرحدی سکیورٹی اور عسکریت پسند تشدد کو خطے میں پھیلنے سے روکنا آئندہ کے اہم چیلنجز میں شامل رہیں گے۔

Related Articles