پاکستان میں پیٹرول مہنگا ہونے والا ہے؟ عالمی منڈی سے بڑی خبر آگئی

پاکستان میں پیٹرول مہنگا ہونے والا ہے؟ عالمی منڈی سے بڑی خبر آگئی

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھی گئی ہے عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں بھی اضافے کے خدشات لاحق ہیں۔

ٹینکرز پر حملوں کی اطلاعات اور ایران و امریکا کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث سرمایہ کاروں میں سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھے جس کے نتیجے میں برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتوں میں ایک ڈالر سے زائد اضافہ ہوا۔

جمعہ کو عالمی بینچ مارک برینٹ خام تیل کی قیمت 1.45 ڈالر یا 1.67 فیصد اضافے کے بعد 88.52 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 1.15 ڈالر یا 1.42 فیصد بڑھ کر 82.40 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

ہفتہ وار بنیاد پر بھی بڑا اضافہ

خام تیل کی قیمتوں میں صرف ایک دن ہی نہیں بلکہ پورے ہفتے کے دوران بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ برینٹ میں ہفتہ وار بنیاد پر تقریباً 6 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا۔

تیل کی قیمتوں میں یہ تیزی ایسے وقت میں آئی ہے جب عالمی مارکیٹ پہلے ہی ایران امریکا کشیدگی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور خطے میں تیل کی سپلائی کے مستقبل پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا خدشہ، حکومت نے بڑا اجلاس طلب کرلیا

ٹینکرز پر حملوں نے تشویش بڑھا دی

آئل مارکیٹ میں حالیہ تیزی کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکرز کو لاحق خطرات ہیں۔ 14 اگست کو متحدہ عرب امارات کی سرکاری کمپنی ADNOC کے دو ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم دونوں جہازوں کو معمولی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔

اس واقعے نے عالمی مارکیٹ میں یہ خدشہ دوبارہ پیدا کردیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈی تک تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں بحری آمدورفت میں معمولی رکاوٹ بھی عالمی تیل مارکیٹ پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

حالیہ صورتحال میں اس گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد معمول کے مقابلے میں نمایاں کم ہوئی ہے، جس سے مارکیٹ میں سپلائی کے خطرے کا اضافی پریمیم شامل ہوگیا ہے۔

ایران امریکا مذاکرات میں بھی تعطل

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے سے متعلق مذاکرات میں بھی فی الحال کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوئی۔ مذاکرات میں تعطل نے سرمایہ کاروں کے خدشات بڑھا دیے ہیں کہ خطے میں کشیدگی مزید طول پکڑ سکتی ہے۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر مزید اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کی دھمکیوں نے بھی مارکیٹ کو محتاط رکھا ہوا ہے۔

پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت میں اضافہ پاکستان کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ ملک اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں پاکستان کے درآمدی بل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

تاہم پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت فوری طور پر عالمی مارکیٹ کے ایک دن کے اتار چڑھاؤ سے طے نہیں ہوتی۔ عالمی قیمت، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، پٹرولیم لیوی، ٹیکسز، درآمدی اخراجات اور دیگر عوامل کو مجموعی طور پر مدنظر رکھا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کی پیٹرولیم ڈویژن نے 15 اگست کو واضح کیا ہے کہ 17 اگست تک پٹرول اور ڈیزل کی موجودہ قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:ایزی پیسہ سے ہزاروں روپے کا ڈسکاؤنٹ کیسے لیں؟ اہم تفصیلات آگئیں

آئندہ صورتحال کس طرف جائے گی؟

ماہرین کی نظر اب بنیادی طور پر تین چیزوں پر ہے: آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت، ایران امریکا مذاکرات اور خطے میں مزید حملے یا کشیدگی۔

اگر بحری راستوں کی صورتحال مزید خراب ہوئی اور تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو عالمی قیمتیں مزید اوپر جاسکتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آتی ہے تو حالیہ اضافے میں کمی بھی آسکتی ہے۔ عالمی تیل مارکیٹ اس وقت بنیادی طور پر انہی جغرافیائی سیاسی عوامل کے زیرِ اثر ہے

Qaisar Mirza
editor

Related Articles