اس کے علاوہ بلوچستان کو 2 حصوں اور پنجاب کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی باتیں بھی زیر گردش ہیں۔ خیبر پختونخوا کے حوالے سے صورتحال کچھ پیچیدہ ہے کیونکہ سابقہ قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد اسے پختون اور ہزارہ خطوں میں تقسیم کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک اہم حکومتی تقریب کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مسائل کے حل کے لیے اکٹھے ہونے کا مشورہ دیا۔
تاریخی پس منظر کو دیکھا جائے تو 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد پیدا ہونے والے انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یہ بحث طویل عرصے سے پس منظر میں موجود تھی، جو اب دوبارہ سر اٹھا چکی ہے۔
وکلا تنظیموں کا مؤقف اور آئینی تقاضے
اس حساس معاملے پر ملک کی بڑی قانونی تنظیموں کے ردعمل نے صورتحال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون الرشید نے اس مباحثے کی بھرپور تائید کی ہے اور کہا ہے کہ نئے صوبے بننے سے نچلی سطح پر وسائل کی منصفانہ تقسیم اور بہتر طرزِ حکمرانی ممکن ہو سکے گی۔
دوسری جانب پاکستان بار کونسل نے اپنے اجلاس میں دوٹوک الفاظ میں مؤقف اپنایا ہے کہ اس نوعیت کا ہر قدم صرف اور صرف آئین کے دائرہ کار اور پارلیمانی مفاہمت کے تحت اٹھایا جانا چاہیے۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ سیاسی اتفاقِ رائے کے بغیر اس قسم کی بڑی آئینی تبدیلیاں کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوگا۔
اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور لوکل گورنمنٹ کا نظام
صوبوں کی تشکیل کے ساتھ ساتھ ایک متبادل آپشن کے طور پر مقامی حکومتوں کے نظام کو دوبارہ زندہ کرنے اور بااختیار بنانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
مجوزہ تجاویز میں یہ بھی زیر بحث ہے کہ اگر صوبے نہیں بنائے جاتے تو مقامی حکومتوں کے فنڈز کو براہ راست وفاق کے ذریعے تقسیم کیا جائے تاکہ نچلی سطح پر عوام کے مسائل فوری طور پر حل ہو سکیں۔
ماضی کے ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر نچلی سطح کی جمہوریت کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جاتا تو آج انتظامی مشکلات میں اتنی شدت نہ ہوتی۔
سیاسی چیلنجز اور مستقبل کا لائحہ عمل
اگر اس پورے منظرنامے کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ نئے صوبوں کا قیام بظاہر انتظامی بہتری کا حسین خواب لگتا ہے، مگر عملی طور پر اس کے پیچھے چھپے سیاسی مضمرات بہت گہرے ہیں۔
بڑی سیاسی جماعتوں کی روایتی مخالفت اور پارلیمنٹ کے اندر مطلوبہ دو تہائی اکثریت کا حصول اس مجوزہ ترمیم کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتے ہیں۔
حکومت کو نہ صرف اتحادی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا بلکہ اپوزیشن کے تحفظات کو بھی دور کرنا پڑے گا۔
اگر یہ بحث محض سیاسی بیانات تک محدود رہتی ہے تو یہ قوم کے وقت کا ضیاع ثابت ہوگی، لیکن اگر سنجیدہ عملی اقدامات اٹھائے گئے تو پاکستان کی انتظامی تاریخ میں ایک بہت بڑی تبدیلی جنم لے سکتی ہے۔