قومی احتساب بیورو (نیب) اسلام آباد/راولپنڈی نے فنڈز کے خردبرد کیس میں ریکور کیے گئے 4 ارب 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثے راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) کے حوالے کر دیے۔
نیب کے مطابق نیب اسلام آباد/ راولپنڈی میں باضابطہ رقم حوالے کرنے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں ڈائریکٹر جنرل نیب اسلام آباد/راولپنڈی وقار احمد چوہان نے وصول شدہ اثاثے باضابطہ طور پر آر ڈی اے کے نمائندوں کے حوالے کیے۔
یہ مقدمہ راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے محکمانہ فنڈز میں 321 کال ڈپازٹ رسیدوں (CDRs) کے ذریعے مبینہ خردبرد سے متعلق ہے۔ نیب کی تحقیقات کے نتیجے میں پلی بارگین، سیٹلمنٹس اور دیگر قانونی کارروائیوں کے ذریعے 1.75 ارب روپے کی ریکوری عمل میں لائی گئی، جبکہ تقریباً 2.3 ارب روپے مالیت کی 31 غیر منقولہ جائیدادیں منجمد کر دی گئی ہیں ، ان جائیدادوں کے تحفظ اور انتظام کے لیے عدالت کی جانب سے ایک وصول کنندہ بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔
یہ ریکوری ڈائریکٹر جنرل نیب اسلام آباد/راولپنڈی وقار احمد چوہان کی قریبی نگرانی میں ممکن ہوئی جبکہ ڈائریکٹر الیاس قمر کی سربراہی میں ڈپٹی ڈائریکٹر شاہد حسین اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر حمزہ اقبال پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم نے غبن کیے گئے اثاثوں کی کامیاب ریکوری کو یقینی بنانے کیلئے انکوائری کی۔
ڈائریکٹر جنرل نے ٹیم کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ عوامی اثاثوں کی بازیابی اور بحالی نیب کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
تقریب کے دوران اثاثے باضابطہ طور پر آر ڈی اے کے حوالے کیے گئے تاکہ غبن کیے گئے عوامی فنڈز اور اثاثوں کو صحیح ادارے کو بحال کرنے میں آسانی ہو، نیب نے مزید بتایا کہ ملزمان کے خلاف جلد ہی راولپنڈی کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا جائے گا، جبکہ باقی ماندہ رقم کی ریکوری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
یہ ریکوری قومی خزانے سے خردبرد کی گئی رقوم اور سرکاری اثاثوں کی مؤثر ریکوری کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔