عالمی مارکیٹ میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود وفاقی حکومت نے اس کا مکمل فائدہ عوام تک منتقل کرنے کے بجائے پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر دیا جس کے باعث صارفین کو معمولی ریلیف ہی مل سکا۔
حکومت نے گزشتہ رات پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی کا اعلان کیا تاہم جاری ہونے والے پیٹرولیم لیوی کے نوٹیفکیشن سے یہ بات سامنے آئی کہ پیٹرول پر لیوی میں 6 روپے 22 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے اضافے کے بعد پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 70 روپے 36 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اگر ڈویلپمنٹ لیوی میں اضافہ نہ کیا جاتا تو عوام کو پیٹرول مزید سستا کر کے ریلیف فراہم کیا جاسکتا تھا
عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے باعث حکومت کے پاس پیٹرول کی قیمت میں زیادہ کمی کرنے کی گنجائش موجود تھی تاہم پیٹرول پر لیوی بڑھانے سے اس گنجائش کا بڑا حصہ حکومتی ریونیو میں چلا گیا جس کے نتیجے میں عوام کو محدود ریلیف ملا۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی میں 6 روپے 22 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد ڈیزل پر لیوی 70 روپے 82 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ مٹی کے تیل پر لیوی 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے جبکہ 5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی بھی بدستور نافذ رہے گی۔اسی ہفتے حکومت نے کلائمٹ لیوی میں بھی اضافہ کیا تھا
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ نہ کیا جاتا تو صارفین کو پیٹرول کی قیمت میں کہیں زیادہ کمی کا فائدہ مل سکتا تھا۔ ان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں عالمی قیمتوں کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم لیوی کاربن لیوی درآمدی لاگت اور دیگر حکومتی محصولات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔