ملازمین کی موجیں، چینی کمپنی چیری کے نئے منصوبے کے لیے 3 ہزار نوکریوں کا اعلان

ملازمین کی موجیں، چینی کمپنی چیری کے نئے منصوبے کے لیے 3 ہزار نوکریوں کا اعلان

افریقی خطے کو آٹو مینوفیکچرنگ کا مرکز بنانے اور اپنی عالمی رسائی بڑھانے کے لیے چین کی معروف آٹو کمپنی چیری نے رواں ہفتے جنوبی افریقہ کے علاقے روسلین میں واقع جاپانی کمپنی نسان کی کار مینوفیکچرنگ فیکٹری کو باضابطہ طور پر سنبھال لیا ہے۔

معاہدے کی تفصیلات اور پیداواری ہدف

چینی آٹو مینوفیکچرنگ کمپنی چیری نے جاپانی کار ساز کمپنی نسان کی جنوبی افریقہ میں واقع مینوفیکچرنگ فیکٹری کا کنٹرول باضابطہ طور پر اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے، جسے عالمی آٹو انڈسٹری میں ایک بہت بڑی اسٹریٹجک تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:آٹو انڈسٹری میں بڑی پیشرفت، پاکستان کی پیداواری صلاحیت 5 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئی

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں کمپنیوں کے درمیان یہ اہم معاہدہ رواں سال جنوری میں طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت چیری اب روسلین میں واقع نسان کے اس پرانے پلانٹ کو جدید ٹیکنالوجی سے اپ گریڈ کرے گی اور کمپنی نے 2027 کے وسط تک یہاں سے گاڑیوں کی باقاعدہ پیداوار شروع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بڑے منصوبے کا بنیادی مقصد جنوبی افریقہ کو پورے افریقی خطے کے لیے آٹو مینوفیکچرنگ، برآمدات، تحقیق اور ترقی کا ایک بڑا مرکزی حب بنانا ہے، جہاں سے تیار کردہ گاڑیاں دیگر افریقی ممالک کو برآمد کی جائیں گی۔

ملازمین کا تحفظ اور روزگار کے نئے مواقع

سماجی اور معاشی طور پر ایک مثبت قدم اٹھاتے ہوئے چیری انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ نسان فیکٹری کے تمام 692 ملازمین کو نوکریوں پر برقرار رکھے گی اور کسی کی برطرفی نہیں کی جائے گی۔

اس کے علاوہ فیکٹری کے اپ گریڈیشن پلانٹ اور پیداوار شروع ہونے سے خطے میں مجموعی طور پر تقریباً 3 ہزار بلاواسطہ اور بالواسطہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے مقامی معیشت کو زبردست فروغ ملے گا۔

پیداواری ماڈلز کے حوالے سے کمپنی نے واضح کیا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں اس فیکٹری کے اندر جیٹور ٹی سیریز، جیکو جے 5 اور چیری ٹیگو 4 جیسی مقبول ایس یو وی ماڈلز کی کاریں تیار کی جائیں گی۔

ان گاڑیوں میں روایتی اندرونی دہن (پیٹرول، ڈیزل) انجن اور نئی توانائی (الیکٹرک اور ہائبرڈ) دونوں اقسام کے ماڈلز شامل ہوں گے۔

کمپنی نے ابتدائی مرحلے میں گاڑیوں کی تیاری کے لیے 40 فیصد تک مقامی پرزہ جات (لوکل پارٹس) کے استعمال کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانے کے لیے معروف چینی پرزہ جات بنانے والے سپلائرز کو بھی اس منصوبے کا حصہ بنایا جائے گا۔

جنوبی افریقہ کی آٹو مارکیٹ اور نسان کا انخلا

جنوبی افریقہ تاریخی طور پر براعظم افریقہ میں گاڑیوں کی تیاری کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے، جہاں نسان، ٹویوٹا، فورڈ اور وولکس ویگن جیسی عالمی کمپنیاں دہائیوں سے کام کر رہی ہیں۔

روسلین کا علاقہ خاص طور پر نسان کے بحری اور زمینی سپلائی روٹس کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، عالمی سطح پر جاپانی کمپنیوں کو درپیش مالی چیلنجز اور چینی کمپنیوں کی سستی اور جدید ٹیکنالوجی کے باعث نسان نے اس پلانٹ سے اپنے آپریشنز محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔

دوسری طرف چین کی گھریلو مارکیٹ میں اس وقت آٹو کمپنیوں کے درمیان شدید ترین مقابلہ چل رہا ہے، جس کی وجہ سے چینی کمپنیاں اب تیزی سے اپنے بین الاقوامی نیٹ ورک کو پھیلا رہی ہیں اور نسان کا یہ پلانٹ چیری کے لیے ایک سنہری موقع بن کر سامنے آیا۔

مزید پڑھیں:گاڑی خریدنے والوں کیلئے خوشخبری ، حکومت کی نئی آٹو پالیسی سے گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑی کمی

آٹو انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق نسان فیکٹری کا چیری کے کنٹرول میں جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی آٹو مارکیٹ کا محور اب جاپان اور مغرب سے منتقل ہو کر چین کی طرف جا رہا ہے۔

چینی آٹو کمپنیوں کی یہ عالمی توسیع محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ افریقی مارکیٹ پر مکمل معاشی اثر و رسوخ حاصل کرنے کی کڑی ہے۔

اس منصوبے میں 40 فیصد مقامی پرزہ جات کا استعمال اور چینی سپلائرز کو شامل کرنا ایک انتہائی ذہین حکمت عملی ہے۔ اس سے چیری کو پیداواری لاگت کم کرنے میں مدد ملے گی اور وہ افریقی ممالک کو انتہائی سستی قیمت پر جدید ایس یو وی اور الیکٹرک گاڑیاں فراہم کر سکے گی، جس کا مقابلہ کرنا جاپانی یا یورپی کمپنیوں کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔

مزید برآں 692 ملازمین کو برقرار رکھ کر چیری نے جنوبی افریقی حکومت کا اعتماد بھی جیت لیا ہے، جو مستقبل میں اسے ٹیکس چھوٹ اور دیگر مراعات دلوانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ اقدام آنے والے وقتوں میں افریقہ میں جاپانی گاڑیوں کی اجارہ داری کے خاتمے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

Related Articles