نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئی ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات اور معاشی تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند کا دفترِ خارجہ آمد پر نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے پرتپاک استقبال کیا اور معزز مہمان کا تعارف دفترِ خارجہ کے اعلیٰ حکام سے کرایا۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان گرم جوشی سے مصافحہ ہوا اور بعد ازاں وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات کا آغاز ہوا۔ مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں شراکت داری سے متعلق عوام کو آگاہ کیا۔
پاکستانی برادری کا کردار
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ کینیڈا میں مقیم پاکستانی برادری دونوں ملکوں کے تعلقات کا ایک قیمتی اثاثہ ہے۔
کینیڈین وزیرِ خارجہ نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت 3 لاکھ سے زائد پاکستان نژاد شہری کینیڈا میں آباد ہیں جو وہاں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
سفارتی و معاشی رابطے
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان فعال سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی گزشتہ ملاقات کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطے برقرار ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ دورہ تعلقات کو ایک نئی رفتار دے گا۔
تعاون کے نئے شعبے
کینیڈین وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے بہترین میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک عالمی معیشت میں مثبت کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر زراعت، صنعت اور دیگر تجارتی شعبوں میں مشترکہ کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اپنے اس اہم سرکاری دورے کے دوران کینیڈا کی وزیرِ خارجہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے مزید ملاقاتیں بھی کریں گی، جن میں پاک کینیڈا تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جائے گا۔
پاکستان اور کینیڈا کے درمیان سفارتی تعلقات کی تاریخ دہائیوں پر محیط ہے، تاہم حالیہ برسوں میں تجارتی حجم اور عوامی سطح پر رابطوں (پیپل ٹو پیپل کانٹیکٹ) میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
کینیڈا میں مقیم پاکستانی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد دونوں ممالک کے درمیان ایک مضبوط پل کا کام کر رہی ہے۔
ماضی میں دونوں ممالک کے مابین زراعت (خاص طور پر دالوں اور کینوولا کی تجارت)، تعلیم اور کلین انرجی کے شعبوں میں تعاون رہا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں عالمی اقتصادی فورم یا دیگر بین الاقوامی فورمز کے سائیڈ لائنز پر ہونے والی ملاقاتوں نے اس بات کی راہ ہموار کی کہ کینیڈین قیادت پاکستان کا دورہ کرے تاکہ تجارتی رکاوٹوں کو دور کر کے اقتصادی شراکت داری کو باقاعدہ شکل دی جا سکے۔
کینیڈین وزیرِ خارجہ انیتا آنند کا یہ دورہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اقتصادی سفارت کاری کے لیے ایک مثبت پیشرفت ہے۔
خارجہ تنہائی کا خاتمہ
مغربی ممالک کے اعلیٰ عہدیداروں کا اسلام آباد آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنے سفارتی تعلقات کو کامیابی سے متوازن کر رہا ہے۔
افرادی قوت اور ترسیلاتِ زر
کینیڈا میں 3 لاکھ سے زیادہ پاکستانیوں کی موجودگی کا مطلب ہے کہ پاکستان کے لیے آئی ٹی، ہیلتھ کیئر اور انجینئرنگ کے شعبوں میں قانونی امیگریشن اور ورک ویزوں کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، جس سے ملک کو قیمتی زرِ مبادلہ حاصل ہوگا۔
ٹیکنالوجی کی منتقلی
کینیڈا زراعت اور انڈسٹری میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا حامل ہے۔ پاکستان اس وقت زرعی بحران اور کم صنعتی پیداوار کا شکار ہے، چنانچہ کینیڈا کے ساتھ صرف تجارت ہی نہیں بلکہ زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی (ٹیکنالوجی ٹرانسفر) پر توجہ دینا پاکستان کے لیے لانگ ٹرم فائدہ مند ثابت ہوگا۔
تاہم اس معاشی صلاحیت کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پاکستان کو اپنے ہاں کاروباری ماحول کو آسان بنانا ہوگا تاکہ کینیڈین سرمایہ کار یہاں بلا خوف و خطر سرمایہ کاری کر سکیں۔