صرف 125 روپے روزانہ بچائیں، 70 سی سی موٹر سائیکل گھر لے جائیں،نئی سکیم آ گئی

صرف 125 روپے روزانہ بچائیں، 70 سی سی موٹر سائیکل گھر لے جائیں،نئی سکیم آ گئی

پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور پبلک ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے کرایوں کے باعث لاکھوں افراد کے لیے ذاتی موٹر سائیکل اب ضرورت بن چکی ہے۔ ایسے میں میزان بینک اور بینک الفلاح نے صارفین کو یونائیٹڈ 70 سی سی موٹر سائیکل آسان اقساط پر خریدنے کی سہولت فراہم کی ہے جس کے ذریعے شہری کم ڈاؤن پیمنٹ کے ساتھ اپنی بائیک حاصل کر سکتے ہیں۔

یونائیٹڈ US-70 موٹر سائیکل کی موجودہ نقد قیمت تقریباً 1 لاکھ 11 ہزار روپے ہے۔ اگرچہ مختلف شہروں اور مجاز ڈیلرز کے حساب سے قیمت میں معمولی فرق ہو سکتا ہے تاہم فنانسنگ اسکیمیں اسی قیمت کے قریب تیار کی گئی ہیں۔

اقساط کا مکمل چارٹ

تفصیل پیکیج نمبر 1 پیکیج نمبر 2
موٹر سائیکل کی قیمت 111,000 روپے 111,000 روپے
ڈاؤن پیمنٹ 16,650 روپے (15%) 33,300 روپے (30%)
فنانس کی رقم 94,350 روپے 77,700 روپے
مدت 36 ماہ 36 ماہ
ماہانہ قسط تقریباً 4,493 روپے تقریباً 3,700 روپے
کل ادائیگی تقریباً 178,393 روپے تقریباً 166,500 روپے
تخمینی منافع 67,393 روپے 55,500 روپے

 اصل قسط منافع اور پراسیسنگ چارجز بینک کی پالیسی اور درخواست گزار کی کریڈٹ پروفائل کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔

روزانہ کتنی بچت کریں تو موٹر سائیکل اپنی ہو سکتی ہے؟

یہ اسکیم متوسط طبقے کے لیے اس لحاظ سے بھی آسان بنائی گئی ہے کہ اگر کوئی شہری روزانہ معمولی بچت کرے تو وہ باآسانی اپنی قسط ادا کر سکتا ہے۔

  • 15 فیصد ڈاؤن پیمنٹ والے پیکیج میں ماہانہ قسط تقریباً 4,493 روپے بنتی ہے، یعنی روزانہ صرف 150 روپے بچانا کافی ہوگا۔

  • 30 فیصد ڈاؤن پیمنٹ والے پیکیج میں ماہانہ قسط تقریباً 3,700 روپے ہے یعنی روزانہ تقریباً 125 روپے کی بچت سے قسط ادا کی جا سکتی ہے۔

 اگر کوئی شخص روزانہ ایک چائے کولڈ ڈرنک یا دیگر غیر ضروری اخراجات میں معمولی کمی کر دے تو صرف 125 سے 150 روپے روزانہ کی بچت سے تین سال کے اندر اپنی ذاتی موٹر سائیکل کا مالک بن سکتا ہے۔

ڈاؤن پیمنٹ کیسے جمع کی جا سکتی ہے؟

اگر کسی کے پاس ابتدائی رقم موجود نہیں تو وہ بھی معمولی بچت سے ڈاؤن پیمنٹ جمع کر سکتا ہے۔

  • 15 فیصد ڈاؤن پیمنٹ (16,650 روپے) کے لیے اگر روزانہ 200 روپے بچائے جائیں تو تقریباً 83 دن (تقریباً تین ماہ) میں رقم جمع ہو سکتی ہے۔

  • 30 فیصد ڈاؤن پیمنٹ (33,300 روپے) کے لیے روزانہ 200 روپے کی بچت سے تقریباً 167 دن (ساڑھے پانچ ماہ) میں مطلوبہ رقم جمع کی جا سکتی ہے۔

میزان بینک سے موٹر سائیکل کیسے حاصل کریں؟

میزان بینک اپنی Meezan Apni Bike سہولت کے تحت صارفین کو موٹر سائیکل فنانسنگ فراہم کرتا ہے۔ درخواست گزار پاکستان بھر میں کسی بھی میزان بینک برانچ کے کنزیومر فنانس ڈیسک پر جا کر درخواست جمع کرا سکتا ہے یا بینک کی آن لائن سہولت سے بھی اپلائی کر سکتا ہے۔

بینک الفلاح سے موٹر سائیکل کیسے حاصل کریں؟

بینک الفلاح اپنے AlfaMall پلیٹ فارم کے ذریعے صارفین کو اقساط پر موٹر سائیکل خریدنے کی سہولت دیتا ہے۔ اہل صارف آن لائن درخواست دے سکتے ہیں جبکہ منظوری کے بعد موٹر سائیکل مجاز یونائیٹڈ ڈیلر سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

درخواست دینے کے لیے ضروری شرائط

بینکوں کی پالیسی کے مطابق درخواست گزار کے لیے درج ذیل شرائط ضروری ہیں۔

  • عمر 21 سے 60 سال کے درمیان ہو۔

  • مستقل آمدنی کا ثبوت موجود ہو۔

  • قومی شناختی کارڈ (CNIC)۔

  • گزشتہ 6 ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ۔

  • تنخواہ دار افراد کے لیے سیلری سلپ یا جاب سرٹیفکیٹ۔

  • بینک کی کریڈٹ جانچ میں کامیاب ہونا۔

درخواست دینے کا طریقہ

  1. قریبی میزان بینک یا بینک الفلاح برانچ جائیں یا آن لائن درخواست دیں۔

  2. مطلوبہ دستاویزات جمع کرائیں۔

  3. بینک آمدنی اور کریڈٹ ہسٹری کی جانچ کرے گا۔

  4. درخواست منظور ہونے پر بینک ڈیلیوری آرڈر (Delivery Order) جاری کرے گا۔

  5. اس آرڈر کے ساتھ یونائیٹڈ موٹر سائیکل کے مجاز شوروم یا ڈیلر سے بائیک وصول کی جا سکے گی۔

موٹر سائیکل کہاں سے ملے گی؟

بینک سے فنانسنگ کی منظوری کے بعد موٹر سائیکل United Motorcycles کے مجاز ڈیلرز سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ لاہور، کراچی، راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد، ملتان، پشاور اور دیگر بڑے شہروں میں یونائیٹڈ کے متعدد مستند شوروم اور ڈیلرز موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کا بڑا اعلان، ایک لاکھ مفت الیکٹرک بائیکس دی جائیں گی

 اگر شہری اپنی ماہانہ آمدنی کے مطابق منصوبہ بندی کریں اور روزانہ معمولی بچت کی عادت اپنائیں تو موٹر سائیکل کی قسط ادا کرنا مشکل نہیں۔ ذاتی موٹر سائیکل نہ صرف روزانہ کے سفری اخراجات کم کرتی ہے بلکہ وقت کی بچت اور روزگار کے بہتر مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسان اقساط پر موٹر سائیکل فنانسنگ متوسط طبقے کے لیے ایک مؤثر سہولت تصور کی جا رہی ہے۔

editor

Related Articles