وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی نظام کو ’ری سیٹ‘ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ 79 سال بعد بھی ہم نتائج دینے میں ناکام ہیں اور نظام کی خرابی دور کرنے کے لیے سیاسی اور عوامی اتفاق رائے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کو صوبہ بننا چاہیے، عہدے پر رہوں یا نہ رہوں، اب اس مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
قومی پالیسی مکالمے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملکی طرزِ حکمرانی، انتظامی ڈھانچے اور وسائل کی تقسیم پر کھلے عام تنقید کرتے ہوئے نظام میں وسیع تر اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے اپنے حالیہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے نظام کو ’ری سیٹ‘ کرنے کی بات کی تو اس کی مختلف تشریحات کی گئیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کا اشارہ کسی سیاسی جماعت یا موجودہ سیاسی بندوبست کو ختم کرنے کی طرف نہیں تھا، بلکہ ری سیٹ کا مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں غلط ہو رہی ہیں، انہیں ٹھیک کیا جائے۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی عام سی کمپنی بھی درست کام نہیں کر رہی ہوتی تو لوگ سر جوڑ کر بیٹھتے ہیں اور خامیاں دور کرتے ہیں، لیکن حیرت کی بات ہے کہ 75 سال گزرنے کے باوجود ہمارا ریاستی نظام عوام کو مطلوبہ نتائج نہیں دے پا رہا۔
نئے انتظامی یونٹس اور مقامی حکومتوں کی ناگزیریت
محسن نقوی نے مقامی حکومتوں اور نئے انتظامی یونٹس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر سب کو اعتراض ہوتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آبادی کے لحاظ سے ہم دنیا کا 5 واں بڑا ملک بن چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود ہم نئے انتظامی یونٹس بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ فیصلے عوام کی مرضی سے ہونے چاہییں، کسی ایک شخص، حکومت یا سیاسی جماعت کی مرضی نہیں چلنی چاہیے۔
مقامی حکومتوں کی طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو شخص میئر بن کر آگے آتا ہے، وہ حکومت چلانا بہتر جانتا ہے۔
انہوں نے عالمی مثالیں دیتے ہوئے کہا، ’جو مرضی کر لیں، اب نیویارک کے میئر کے امیدوار ظہران ممدانی اور لندن کے میئر صادق خان جیسے لوگ یہاں بھی آ کر رہیں گے‘۔ ان کا اشارہ بااختیار بلدیاتی نمائندوں کی ناگزیریت کی طرف تھا۔
اسلام آباد کو صوبہ بنانے کا پختہ عزم
وفاقی دارالحکومت کے حقوق پر بات کرتے ہوئے محسن نقوی نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ وہ صوبہ اسلام آباد کے سب سے بڑے حامی ہیں۔
ان کا استدلال تھا کہ اسلام آباد کے شہریوں کو این ایف سی ایوارڈ کا ایک روپیہ نہیں ملتا، کیا اسلام آباد کے شہری پاکستان کے شہری نہیں ہیں؟ انہوں نے اعلان کیا کہ نوکری پر رہوں یا نہ رہوں، اب میں اس مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ اسلام آباد صوبہ بننا چاہیے اور اس کے لیے سب کو کوششیں کرنی چاہییں۔
مردم شماری اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم پر تشویش
وزیر داخلہ نے ترقیاتی فنڈز کی غیر مساوی تقسیم پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارا سارا فوکس صرف اسی شہر پر ہوتا ہے جہاں ہم رہتے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا بلوچستان میں کوئٹہ اور خیبر پختونخوا میں پشاور کے علاوہ کوئی اور شہر نہیں ہے؟ انہوں نے اپنے دورِ وزارتِ اعلیٰ کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ایک سال کی پوری کوشش کے باوجود وہ 70 فیصد پنجاب کا وزٹ نہیں کر سکے، تو کیا ایک بیورو کریٹ 14 کی آبادی کے لیے درست فیصلے کر سکتا ہے؟
مردم شماری کے حوالے سے چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ ایک میٹنگ میں انہیں بتایا گیا کہ ایک صوبے نے مردم شماری میں اپنے نمبرز اضافی ڈال دیے ہیں جس کی وجہ سے پنجاب کی سیٹیں کم ہونے جا رہی ہیں۔
انہوں نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’آبادی بڑھاؤ اور وسائل لو‘ کا فارمولا اب ختم ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہم آج تک اس مسئلے کو حل نہیں کر پا رہے، تو کیا ہم کسی بم کے پھٹنے کا انتظار کر رہے ہیں؟
پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی تشکیل کا مطالبہ کئی دہائیوں سے زیرِ بحث ہے، لیکن سیاسی مصلحتوں اور اتفاق رائے کے فقدان کے باعث یہ معاملہ کبھی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد انتظامی لحاظ سے وفاق کے زیر انتظام ہے اور اس کا اپنا کوئی صوبائی ڈھانچہ یا این ایف سی ایوارڈ میں حصہ نہیں ہے جس کے باعث وہاں کے شہریوں کو ترقیاتی فنڈز کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
دوسری جانب، 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری پر بھی مختلف صوبوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے باعث وسائل کی تقسیم اور نشستوں کے تعین کا معاملہ متنازع ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ پالیسی بیان ملکی سیاست اور انتظامی طرزِ فکر میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ ان کی جانب سے نظام کو ’ری سیٹ‘ کرنے کی اصطلاح بظاہر تو سیاسی حلقوں میں تشویش پیدا کر رہی تھی، لیکن ان کی موجودہ وضاحت نے ثابت کر دیا ہے کہ اصل مسئلہ گورننس کی ناکامی ہے۔
2.5 کروڑ بچوں کا اسکول نہ جانا اور عدالتوں میں 20 لاکھ کیسز کا زیرِ التوا ہونا ریاستی مشینری کے مکمل بریک ڈاؤن کی نشاندہی کرتا ہے۔
صادق خان اور ظہران ممدانی کی مثال دے کر انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ مستقبل کا پاکستان بااختیار مقامی حکومتوں کے بغیر نہیں چل سکتا۔
اس کے علاوہ مردم شماری میں ردوبدل اور وسائل کی بندر بانٹ کو ’بم پھٹنے‘ سے تشبیہ دینا اس بات کا غماز ہے کہ مقتدر حلقے اور موجودہ حکومت اس خطرناک صورتحال کا ادراک کر چکے ہیں۔
اگر محسن نقوی کے ان بیانات کو ریاستی پالیسی کا پیش خیمہ سمجھا جائے، تو آنے والے دنوں میں ہمیں نئے انتظامی یونٹس اور مقامی حکومتوں کے ایک انتہائی مضبوط اور نئے نظام کی قانون سازی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔