طالبان کی پالیسیوں نے افغانستان کو دنیا سے کاٹ دیا، سمیع یوسفزئی

طالبان کی پالیسیوں نے افغانستان کو دنیا سے کاٹ دیا، سمیع یوسفزئی

افغان صحافی سمیع یوسفزئی نےکہا ہے کہ طالبان کی پالیسیوں کے باعث افغانستان بتدریج دنیا سے الگ تھلگ ہوتا جا رہا ہے اور افغان شہریوں کے لیے بیرونِ ملک سفر، تعلیم، روزگار اور علاج کے راستے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنی پوسٹ میں سمیع یوسفزئی نے مختلف ممالک کی ویزا پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے افغان شہریوں کے لیے عمرہ ویزوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات اور دبئی میں افغان شہریوں کے لیے سیاحتی ویزوں کے حصول پر سخت پابندیاں موجود ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے افغان شہریوں کے لیے ویزوں کا اجرا روک دیا ہے، جبکہ ایران، بھارت، تاجکستان اور ازبکستان میں بھی افغان شہریوں کے لیے ویزا حصول مشکل بنا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ترکی نے بھی افغان شہریوں کے لیے ویزوں کا اجرا معطل کر رکھا ہے، جبکہ یورپ اور امریکا میں افغان پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے سفارتی رسائی بھی انتہائی محدود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان میں غیرقانونی پابندیوں کے سبب خواتین خودکشی پر مجبور! عالمی جریدے نے طالبان رجیم کی سخت گیر پالیسیاں آشکارکردیں

افغان صحافی نے سوال اٹھایا کہ اگر مختلف ممالک کے دروازے افغان شہریوں کے لیے بند یا محدود ہوتے جائیں تو وہ سفر، سیاحت، علاج اور تعلیم کے لیے کہاں جائیں گے۔

سمیع یوسفزئی کا کہنا تھا کہ افغان شہریوں کے لیے سفر اور روزگار کے مواقع محدود ہونے کے ساتھ تعلیم کے حصول اور دنیا کے ساتھ معمول کے تعلقات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے افغان طالبان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وطن عوام کے لیے جیل نہیں بلکہ ایک قوم کا گھر ہوتا ہے۔ افغانستان اور افغان شہریوں کو اس حد تک دنیا سے الگ تھلگ نہیں ہونا چاہیے کہ ہر ملک کے دروازے پر انہیں انکار کا سامنا ہو اور انہیں صرف طالبان کی نظر سے دیکھا جائے۔

سمیع یوسفزئی نے مزید کہا کہ افغانستان دنیا کا حصہ ہے، کوئی لاوارث یا بے مالک جزیرہ نہیں، جبکہ افغان شہریوں کو دنیا کے دیگر لوگوں کے ساتھ تعلقات، سفر، تعلیم اور روزگار کے مواقع حاصل کرنے کا حق ہے۔

Related Articles