وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی کراچی میں سیاسی طاقت کے مظاہرے کی کوشش بری طرح ناکام ہو گئی ہے اور روشنیوں کے شہر کے باسیوں نے ان کی ’اسٹریٹ موومنٹ‘ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
27 ستمبر کے مارچ کے لیے عوام کو متحرک کرنے کے دعوے دھرے رہ گئے ہیں اور سہیل آفریدی کا اکیلے گلیوں میں گھومنے کے مناظرز نے واضح کر دیا ہے کہ کراچی کے عوام اب کسی بیرونی سیاسی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے کراچی میں بڑے پیمانے پر سیاسی جوڑ توڑ کی کوششیں اس وقت دم توڑ گئیں جب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو اپنے دورہ کراچی کے دوران عوامی سطح پر شدید سرد مہری کا سامنا کرنا پڑا، عوام نے ان کی آمد سے منہ موڑ لیا ہے۔
استقبال کے لیے کی جانے والی تمام تر تیاریاں اور مہنگے انتظامات عوام کی عدم دلچسپی کے باعث ضائع ہو گئے، جبکہ ملاقاتوں کے مقامات پر خالی کرسیاں مقامی قیادت کی کارکردگی کا منہ چڑاتی رہیں۔
خیبر پختونخوا کے وسائل کا ضیاع اور عوامی ردعمل
کراچی کے شہریوں نے سہیل آفریدی کی سیاسی سرگرمیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ خیبر پختونخوا اس وقت شدید مالیاتی بحران، امن و امان کی دگرگوں صورتحال اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے گزر رہا ہے، ایسے میں وہاں کے ٹیکس دہندگان کا پیسہ کراچی کی سڑکوں پر سیاسی تشہیر کے لیے کیوں اڑایا جا رہا ہے؟۔
شہریوں کا ماننا ہے کہ اپنے صوبے کے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ کر کراچی میں شاہانہ پروٹوکول کے ساتھ سیاست چمکانا انتہائی نامناسب عمل ہے۔
سیکیورٹی اداروں کے خلاف متنازع بیانات
دورے کے دوران سہیل آفریدی کی جانب سے کراچی میں رینجرز اور پولیس کی حفاظتی چوکیوں کو ہٹانے کے حوالے سے دیے گئے بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔
کراچی کے باسیوں نے ان بیانات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شہر کے امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی سوچی سمجھی سازش قرار دیا۔
عوام کا واضح مؤقف ہے کہ یہ چوکیاں شہر کے امن کے لیے ناگزیر ہیں اور ان کے خلاف بات کرنا دراصل بدامنی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
بدانتظامی، ہاتھا پائی اور روزمرہ زندگی میں خلل
رپورٹس کے مطابق اس سیاسی مہم کے دوران پی ٹی آئی کے اپنے ہی قافلوں اور کارکنوں کے درمیان جگہ جگہ بدانتظامی اور ہاتھا پائی کے مناظر دیکھنے کو ملے۔
شکارپور اور دیگر علاقوں میں حامیوں کے آپسی جھگڑوں نے دورے کے انتظامات کا پول کھول دیا۔
دوسری جانب، بار بار سڑکوں کی بندش اور ٹریفک کی روانی میں خلل پڑنے سے عام شہریوں، تاجروں اور دیہاڑی دار مزدوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
شہریوں نے سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا احتجاج اس انداز میں ریکارڈ کروائیں کہ عام آدمی کا روزگار متاثر نہ ہو۔
پاکستان تحریک انصاف 27 ستمبر کو ایک بڑے مارچ کی تیاری کر رہی ہے، جس کے لیے ملک بھر میں کارکنوں کو متحرک کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے۔
اسی سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو کراچی میں ’اسٹریٹ موومنٹ‘ کے ذریعے سیاسی ماحول گرمانے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ تاہم، سندھ انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جلسوں کی اجازت نہ ملنے اور پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے تنظیمی مسائل کی وجہ سے یہ دورہ اپنے آغاز سے ہی مشکلات کا شکار تھا۔
سہیل آفریدی کے دورہ کراچی کی ناکامی محض ایک سیاسی واقعے سے بڑھ کر ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ باشعور شہری اب کھوکھلے نعروں اور جذباتی تقاریر کے سحر سے نکل چکے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، دورے کی ناکامی کے باعث وزیراعلیٰ کے پی شدید فراسٹریشن کا شکار نظر آئے۔ اپنے صوبے کے سنگین مسائل، بالخصوص سیلاب اور معاشی بحران کو نظر انداز کر کے دوسرے صوبے میں سیاسی مہم جوئی کرنا ایک فاش سیاسی غلطی ثابت ہوئی ہے۔
مقامی آبادی کی جانب سے ملنے والا سرد ردعمل، اپنوں کی بدانتظامی اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف متنازع بیانات نے اس دورے کو سندھ میں تحریک انصاف کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا بنا دیا ہے۔ عوام نے اپنے عمل سے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ انتشار اور سڑکوں کی بندش کے بجائے عملی کام، امن اور معاشی استحکام چاہتے ہیں۔