آج رات پیٹرول پمپ بند ہوں گے یا نہیں؟ فیصلہ کن مذاکرات آج

آج رات پیٹرول پمپ بند ہوں گے یا نہیں؟ فیصلہ کن مذاکرات آج

حکومت اور آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین اور ڈیلرز کے منافع (ڈیلر مارجن) میں اضافے کے معاملے پر جاری تنازع تاحال حل نہ ہو سکا جس کے باعث ملک بھر میں پیٹرول کی فراہمی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

گزشتہ روز ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے جس کے بعد پیٹرول پمپ مالکان کی ایسوسی ایشن نے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو آج رات 12 بجے کے بعد ملک بھر میں پیٹرول پمپ بند کر دیے جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد عوام  ٹرانسپورٹ سیکٹر اور کاروباری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت اور ڈیلرز کے درمیان بنیادی اختلاف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نئے یومیہ تعین کے نظام اور ڈیلر مارجن پر ہے۔ پیٹرول پمپ مالکان کا مؤقف ہے کہ روزانہ قیمتوں میں ردوبدل کے باوجود ان کے منافع میں اضافہ نہیں کیا گیا جس سے ان کے کاروباری اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سوزوکی نے گاڑی مہنگی کر دی، 7 لاکھ روپے اضافہ

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین عالمی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے مطابق کیا جا رہا ہے تاکہ قیمتوں میں بروقت ردوبدل ممکن بنایا جا سکے تاہم حکومت ڈیلرز کے تحفظات دور کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔

صورتحال کے پیش نظر آج وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ایک اور اہم ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے نتائج سے یہ طے ہوگا کہ ملک بھر میں پیٹرول پمپ معمول کے مطابق کھلے رہیں گے یا ایسوسی ایشن اپنی ہڑتال اور بندش کے اعلان پر عمل درآمد کرے گی۔

پیٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتے ہیں تاہم اگر ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر سطح پر پیٹرول پمپ بند کرنے سمیت دیگر احتجاجی آپشنز پر عمل کیا جا سکتا ہے۔

 اگر مذاکرات ناکام رہتے ہیں اور پیٹرول پمپ بند ہو جاتے ہیں تو اس کے فوری اثرات ٹرانسپورٹ، مال برداری، صنعت، زرعی شعبے اور عام شہریوں پر مرتب ہوں گے۔ ملک کے مختلف شہروں میں پیٹرول کی قلت کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے جبکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل بھی متاثر ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز دونوں پر دباؤ ہے کہ وہ جلد از جلد قابلِ قبول حل نکالیں کیونکہ موجودہ حالات میں کسی بھی تعطل سے نہ صرف عوام بلکہ ملکی معیشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ تمام نظریں آج ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہیں جہاں یہ فیصلہ ہوگا کہ آیا ڈیڈ لاک ختم ہوتا ہے یا پھر ملک بھر میں پیٹرول پمپوں کی بندش کا اعلان عملی صورت اختیار کرتا ہے۔

editor

Related Articles