مفت چینی اے آئی نے امریکی ٹیک کمپنیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

مفت چینی اے آئی نے امریکی ٹیک کمپنیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

چینی کمپنی مون شاٹ  کے نئے اوپن سورس مصنوعی ذہانت ماڈل کیمی نے امریکی ٹیکنالوجی اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ گزشتہ ہفتے متعارف کرایا گیا یہ مفت اے آئی ماڈل کارکردگی کے اعتبار سے اوپن اے آئی ور اینتھروپک جیسے معروف امریکی ماڈلز کا مضبوط حریف قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کیمی کی آمد کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موجودہ اور سابق اے آئی مشیروں کے درمیان اختلافات بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

سابق اے آئی اور کرپٹو مشیر ڈیوڈ سیکس نے اینتھروپک کے اے آئی ماڈلز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’ضرورت سے زیادہ محدود‘ قرار دیا، جبکہ امریکی محکمہ دفاع کے سینئر عہدیدار ایمل مائیکل نے اوپن اے آئی کے ایک سینئر عہدیدار پر بھی سخت تنقید کی۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیجیٹل سیفٹی کے فروغ کے لیے پی ٹی اے اور میٹا کے درمیان اہم معاہدہ

مفت چینی اے آئی امریکی کمپنیوں کے لیے چیلنج

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چینی کمپنیاں مسلسل طاقتور اور مفت اوپن سورس اے آئی ماڈلز جاری کرتی رہیں تو کاروباری اداروں کی جانب سے مہنگی امریکی اے آئی سروسز خریدنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے، جس سے اوپن اے آئی، اینتھروپک اور دیگر امریکی کمپنیوں کے کاروبار پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی سطح پر بھی امریکی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے۔

اوپن سورس یا سخت نگرانی؟

ڈیوڈ سیکس کا مؤقف ہے کہ صرف اس وجہ سے اوپن سورس اے آئی ماڈلز پر پابندیاں نہیں لگنی چاہئیں کہ وہ امریکی کمپنیوں سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چینی اے آئی ماڈلز کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان پر صارفین کے لیے نسبتاً کم پابندیاں ہوتی ہیں، اگرچہ ان میں چینی حکومتی سنسرشپ بھی موجود رہتی ہے۔

دوسری جانب امریکی حکومت کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز قومی سلامتی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، اس لیے انہیں جاری کرنے سے پہلے حکومتی سطح پر سیکیورٹی جائزہ لینا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کیا پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو پر پابندی لگ گئی؟ حقیقت سامنے آگئی

چپس اور ٹیکنالوجی پر بھی سوالات

کیمی کی غیر معمولی کارکردگی کے بعد ایک اور اہم سوال بھی سامنے آیا ہے کہ چینی کمپنی نے اس ماڈل کی تربیت کے لیے کون سا ہارڈویئر استعمال کیا۔

امریکا کئی برسوں سے چین کو جدید این ویڈیا اے آئی چپس کی برآمدات محدود کر رہا ہے تاکہ اس کی اے آئی ترقی کی رفتار کم کی جا سکے، تاہم کیمی کی کامیابی نے ان پابندیوں کی مؤثریت پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آواز سے چلنے والے اے آئی فونز، کیا اسمارٹ فونز کی دنیا بدلنے والی ہے؟

ماڈل ڈسٹلیشن پر بھی تشویش

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اے آئی کمپنیاں پہلے بھی یہ خدشہ ظاہر کر چکی ہیں کہ بعض چینی کمپنیاں ماڈل ڈسٹلیشن  نامی تکنیک کے ذریعے دوسرے اے آئی ماڈلز کے نتائج سے سیکھ کر اپنے ماڈلز کو بہتر بناتی ہیں۔اگرچہ امریکی حکومت اس عمل کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کر چکی ہے، لیکن کیمی کی مفت دستیابی نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق کیمی کی آمد نے واضح کر دیا ہے کہ چین کم لاگت اور طاقتور اوپن سورس اے آئی ماڈلز تیزی سے متعارف کرا رہا ہے، جبکہ امریکا اب تک اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے متفقہ حکمت عملی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

editor

Related Articles