کیا پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو پر پابندی لگ گئی؟ حقیقت سامنے آگئی

کیا پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو پر پابندی لگ گئی؟ حقیقت سامنے آگئی

پاکستان میں ٹک ٹاک لائیو پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے نئی پابندی عائد کیے جانے کی خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن ثابت ہوئی ہیں، کیونکہ یہ فیچر ملک میں کبھی باضابطہ طور پر شروع ہی نہیں کیا گیا تھا۔

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا اور بعض دیگر حلقوں میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ حکام نے ٹک ٹاک کے لائیو سٹریمنگ فیچر پر پابندی لگا دی ہے۔

تاہم میڈیا کے مطابق بنیادی ٹک ٹاک ایپ ملک میں معمول کے مطابق کام کر رہی ہے، جبکہ لائیو فیچر پر پابندی پی ٹی اے نے نہیں بلکہ خود ٹک ٹاک انتظامیہ نے علاقائی سطح پر عائد کر رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈریم ڈول بری ،معروف امریکی ٹک ٹاکر بریانا جانسن فائرنگ میں ہلاک

میڈیا رپورٹ کے مطابق ماضی میں جب پاکستان میں ٹک ٹاک ایپ سے پابندی ہٹائی گئی تھی، تو طے پانے والی اہم شرائط میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ لائیو سٹریمنگ کا فیچر پاکستانی صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہوگا۔

ٹک ٹاک انتظامیہ نے بھی سابقہ بیانات میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ پاکستان میں لائیو سٹریمنگ کی سہولت میسر نہیں ہے۔

غیر تصدیق شدہ فونز اور متبادل طریقے

سوشل میڈیا پر یہ افواہ بھی گردش کر رہی تھی کہ غیر پی ٹی اے یا غیر رجسٹرڈ آئی ایم ای آئی والے فونز پر ٹک ٹاک لائیو چلتا ہے، جس کی قطعی طور پر نفی کر دی گئی ہے۔ فون کی پی ٹی اے رجسٹریشن کا ٹک ٹاک لائیو کے فیچر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کچھ مقامی مواد تخلیق کار (کنٹینٹ کریٹرز) مختلف غیر قانونی اور غیر رسمی طریقوں یا ہیکس کا استعمال کر کے اس پابندی کو بائی پاس کرتے ہیں اور لائیو آتے ہیں۔ تاہم کمپنی نے کبھی اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ ان کا علاقائی اہلیت کا نظام کس طرح کام کرتا ہے۔

مالیاتی پہلو اور مرکزی بینک کا ممکنہ اقدام

میڈیا رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان میں موجود افراد ان غیر قانونی طریقوں سے ٹک ٹاک لائیو چلا کر رقم کما رہے ہیں یا بیرون ملک سے آمدن منتقل کر رہے ہیں، تو یہ غیر قانونی زمرے میں آتا ہے۔ اس سلسلے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) غیر قانونی یا بغیر تصدیق کے آنے والے غیر ملکی فنڈز کی روک تھام اور جانچ پڑتال کے لیے اقدامات کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:ٹک ٹاکر علی حیدرآبادی کی عبوری ضمانت منظور، شاملِ تفتیش ہونے کا حکم

پاکستان میں ٹک ٹاک کو اخلاقیات، غیر اخلاقی مواد اور مواد کی دیکھ بھال سے متعلق خدشات کی بنیاد پر ماضی میں متعدد بار عارضی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ہر بار پی ٹی اے اور ٹک ٹاک انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے بعد ایپ کو بحال کیا گیا۔ انہی معاہدوں کے تحت ٹک ٹاک نے پاکستان میں اپنے لائیو سٹریمنگ فیچر کو غیر فعال رکھا تاکہ لائیو سٹریمنگ کے دوران کسی بھی غیر مناسب مواد کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے، کیونکہ لائیو مواد کو اصل وقت (ریئل ٹائم) میں کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے۔

صوبائی اسمبلیوں میں پیش کی جانے والی حالیہ قراردادیں بھی ٹک ٹاک لائیو کی موجودہ صورتحال پر اثر انداز نہیں ہوتیں کیونکہ یہ پلیٹ فارم کا اپنا پالیسی فیصلہ ہے۔

تکنیکی اور پالیسی سطح کا فرق

عوام میں اکثر یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ کسی بھی ایپ یا فیچر کا نہ چلنا سرکاری پابندی کا نتیجہ ہے۔ اس کیس نے واضح کیا ہے کہ جیو بلاکنگ (علاقائی پابندی) اور سرکاری سنسرشپ میں فرق ہوتا ہے۔

صارفین کا رویہ اور سیکیورٹی رسک

پاکستانی صارفین کا غیر قانونی راستوں (مثلاً وی پی این یا دیگر ہیکس) کا استعمال کر کے لائیو اسٹریمنگ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل تخلیق کاروں کے لیے لائیو سٹریمنگ کی کتنی مانگ ہے۔ تاہم، غیر تصدیق شدہ ہیکس کا استعمال صارفین کے سمارٹ فونز اور ذاتی ڈیٹا کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجٹ ، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور ٹک ٹاکرز کی آمدن سے متعلق بڑا فیصلہ

مالیاتی اور قانون نافذ کرنے والے چیلنجز

سٹیٹ بینک کا ممکنہ کردار اس بات کا پیش خیمہ ہے کہ غیر طریقہ کار سے آنے والا پیسہ ‘منی لانڈرنگ’ یا غیر قانونی مالیاتی راستوں کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

 اگر حکومت اس کا مستقل حل چاہتی ہے تو ٹک ٹاک کے ساتھ مل کر باقاعدہ فریم ورک بنانا ہوگا تاکہ تخلیق کار قانونی راستے سے زر مبادلہ ملک میں لا سکیں۔

Related Articles