مہنگے پیٹرول کی چُھٹی، پاکستان اور چین کے درمیان بڑا معاہدہ طے پا گیا

مہنگے پیٹرول کی چُھٹی، پاکستان اور چین کے درمیان بڑا معاہدہ طے پا گیا

پاکستان اور چین نے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کے نظام کو مضبوط بنانے، مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے ایک اہم سمجھوتے پر دستخط کر دیے ہیں، جبکہ حکومت جلد نئی ’بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم پالیسی‘ متعارف کرانے کے لیے تیار ہے۔

وزارتِ صنعت و پیداوار کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی موجودگی میں اسٹار چارج، اسٹار چارج انرجی پاکستان اور باہم گلوبل لمیٹڈ کے درمیان یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی پہلی رورو شپمنٹ سے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں کراچی پہنچ گئیں

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت الیکٹرک موبلٹی کے ذریعے پاکستان کے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو جدید بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عنقریب متعارف کرائی جانے والی بیٹری انرجی سٹوریج سسٹم پالیسی ملک میں ای وی انقلاب کی راہ ہموار کرے گی۔

اس پالیسی کا بنیادی مقصد مقامی سطح پر بیٹریوں اور گاڑیوں کی تیاری کو فروغ دینا، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور ایک پائیدار صنعتی ماحول قائم کرنا ہے۔

معاونِ خصوصی نے اس بات پر زور دیا کہ الیکٹرک گاڑیوں پر منتقل ہونے سے پاکستان کا در آمدی پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار 80 فیصد سے بھی زیادہ کم ہو جائے گا، جس سے ملک کے بھاری در آمدی بل میں نمایاں کمی آئے گی اور ساتھ ہی ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کی تحفظ (انرجی سیکیورٹی) کو بھی تقویت ملے گی۔

مزید پڑھیں:معروف کمپنی کی بڑی پیشکش،پاکستان میں سستی الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروا دیں

انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کو سہارا دینے کے لیے حکومت ملک بھر میں ای وی چارجنگ کا انفراسٹرکچر قائم کر رہی ہے۔

چارجنگ سٹیشنز کی توسیع سے عام صارفین کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال انتہائی آسان اور رسائی کے قابل ہو جائے گا۔

پاکستان طویل عرصے سے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی در آمد پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ کرتا رہا ہے، جس کی وجہ سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ رہتا ہے اور ماحولیاتی آلودگی یا سموگ کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت نے قومی ای وی پالیسی کے تحت 2030 تک سڑکوں پر موجود 30 فیصد گاڑیوں کو برقی طاقت پر منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

چینی کمپنیوں کا پاکستان کے ای وی سیکٹر میں داخلہ اس خطے میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے، جس میں اب روایتی انفراسٹرکچر کے بجائے گرین انرجی، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور صنعتی تعاون پر توجہ دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مودی سرکار کی ناکام معاشی پالیسیاں ، ٹیسلا نے بھارت میں الیکٹرک گاڑیاں بنانے کا منصوبہ ترک کردیا

پاکستان اور چین کے درمیان ای وی چارجنگ اور بیٹری پالیسی سے متعلق یہ پیش رفت پاکستان کی معیشت اور صنعتی شعبے کے لیے درج ذیل اہم اثرات کی حامل ہے۔

معاشی و مالیاتی استحکام

پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا چیلنج کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے۔ پیٹرولیم کی در آمدات کو کم کر کے برقی توانائی پر منتقل ہونا ملکی زرمبادلہ کو محفوظ بنانے اور روپے کی قدر کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

چارجنگ انفراسٹرکچر اور اعتماد

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری میں سب سے بڑی رکاوٹ چارجنگ سٹیشنز کی عدم دستیابی تھی۔ سٹار چارج جیسی عالمی سطح کی چینی کمپنی کے ساتھ معاہدے سے ملک گیر چارجنگ نیٹ ورک قائم ہوگا، جس سے عام خریدار کا اعتماد بحال ہوگا۔

صنعتی ترقی اور روزگار

صرف گاڑیاں یا بیٹری در آمد کرنے کے بجائے مقامی مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو معاہدے کا حصہ بنانا ایک دور اندیشانہ قدم ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستانی انجینئرز اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملک میں ہائی ٹیک انڈسٹری کا قیام بھی ممکن ہو سکے گا۔

Related Articles