سعودی عرب کو جوہری پروگرام کی اجازت ، ٹرمپ نے منظوری دے دی

سعودی عرب کو جوہری پروگرام کی اجازت ، ٹرمپ نے منظوری دے دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی سول جوہری تعاون معاہدے کی منظوری دے دی ہے جسے مشرقِ وسطیٰ میں توانائی معیشت اور اسٹریٹجک تعلقات کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو جدید شہری جوہری پروگرام کے قیام میں امریکی تعاون حاصل ہوگا جبکہ مملکت میں مستقبل میں یورینیم افزودگی کی سہولت قائم ہونے کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ معاہدہ 30 سال کے لیے ہوگا اور اس کی مالیت دسیوں ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ معاہدے کا بنیادی مقصد سعودی عرب میں شہری جوہری توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جدید ری ایکٹرز کی تنصیب تکنیکی تعاون اور امریکی کمپنیوں کو اس شعبے میں مرکزی کردار دینا ہے جبکہ دیگر غیر ملکی کمپنیوں کی شمولیت محدود رکھنے کی بھی تجویز شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گاڑیوں کی قیمتوں سے متعلق ٹویوٹا کمپنی نے بڑا اعلان کر دیا

ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے نتیجے میں سعودی عرب کو مستقبل میں اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی (Uranium Enrichment) کی سہولت قائم کرنے کی اجازت بھی دی جا سکتی ہے۔ یہی شق عالمی سطح پر سب سے زیادہ توجہ حاصل کر رہی ہے کیونکہ بعض امریکی قانون سازوں اور عالمی ماہرین کا خیال ہے کہ اگرچہ اس پروگرام کا مقصد پرامن توانائی کا حصول ہے تاہم اس سے خطے میں جوہری صلاحیتوں کی نئی دوڑ شروع ہونے کے خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

معاہدے کو امریکی قانون کے تحت ایگریمنٹ 123 (Agreement 123) کا نام دیا گیا ہے جو امریکی ایٹمی توانائی ایکٹ 1954 کی دفعہ 123 کے تحت طے کیا جاتا ہے۔

اس قانون کے مطابق کسی بھی ملک کے ساتھ سول جوہری تعاون کے لیے اس نوعیت کے معاہدے کی منظوری لازمی ہوتی ہے تاکہ امریکی حکومت اور نجی کمپنیاں متعلقہ ملک میں جوہری توانائی کے منصوبوں پر قانونی طور پر کام کر سکیں۔

رپورٹس کے مطابق اس معاہدے پر امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان دستخط کریں گے۔ دونوں رہنماؤں نے گزشتہ سال ریاض میں اس سلسلے میں ایک ابتدائی مفاہمتی دستاویز پر دستخط کیے تھے جبکہ اب اسے باقاعدہ معاہدے کی شکل دی جا رہی ہے۔

تاہم اس معاہدے کو ابھی امریکی کانگریس کی منظوری بھی درکار ہوگی جہاں بعض ارکان کی جانب سے اس کی مخالفت متوقع ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت دینے سے خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جبکہ حامیوں کا کہنا ہے کہ تمام سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور سخت نگرانی کے تحت انجام دی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:سوزوکی نے گاڑی مہنگی کر دی، 7 لاکھ روپے اضافہ

سعودی عرب پہلے ہی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کا رکن ہے جو دنیا بھر میں پرامن جوہری پروگراموں کی نگرانی کرتی ہے اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ رکن ممالک خفیہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث نہ ہوں۔

اسی لیے مجوزہ سعودی جوہری پروگرام بھی آئی اے ای اے کے حفاظتی معیارات اور معائنہ جاتی نظام کے تحت چلائے جانے کی توقع ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف امریکا اور سعودی عرب کے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ سعودی عرب کے ویژن 2030 کے تحت توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے تیل پر انحصار کم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

اس کے ساتھ ہی یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن ایران سمیت دیگر علاقائی ممالک کے ردعمل اور عالمی جوہری سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

editor

Related Articles