ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مارکو روبیو

ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، مارکو روبیو

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو ایک بار پھر باقاعدہ مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان متعدد سخت اور تنازع والے معاملات موجود ہیں، تاہم واشنگٹن انتظامیہ تہران کے ساتھ سنجیدہ اور تعمیری بات چیت کے لیے مکمل تیار ہے۔

بدھ کو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خطے اور عالمی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ تمام درپیش تنازعات کا حتمی اور پائیدار حل صرف سفارتی راستے سے چاہتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ایران کو بھی اپنے رویے میں مکمل سنجیدگی دکھانا ہوگی۔ اگر ایران پیشرفت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے گا تو امریکا بھی ایک قدم آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔

مارکو روبیو نے ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایران مشرقِ وسطیٰ اور پورے خطے میں بدامنی اور عدم استحکام کو فروغ دے رہا ہے۔

آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے

بالخصوص عالمی تجارت کی سب سے اہم شاہراہ ‘آبنائے ہرمز’ میں متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے عالمی تجارتی بحری آمد و رفت شدید متاثر ہوئی ہے، امریکا اس وقت جہازوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور قطر پھر متحرک، ایران اور امریکا کو نئی تجاویز پیش، نئے معاہدے کی امید روشن، تہران نے تصدیق کردی

 انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت آبنائے ہرمز کے مکمل کنٹرول کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور امریکی افواج وہاں سے گزرنے والے کمرشل اور تجارتی جہازوں کو پورا تحفظ فراہم کر رہی ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے دعویٰ کیا کہ حالیہ جنگ اور تصادم کے دوران ایران کی معیشت اور اس کی دفاعی صلاحیت کو بے پناہ اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث ایران اس وقت اپنے شدید ترین معاشی و سیاسی بحران اور مشکلات کا شکار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا بات چیت کے لیے پہلے بھی تیار تھا اور اب بھی ہے، لیکن ایران اس معاملے میں بالکل سنجیدہ نظر نہیں آ رہا۔ اس موقع پر عالمی تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے مارکو روبیو نے مزید کہا کہ یوکرین جنگ کے جلد سے جلد خاتمے کے لیے بھی امریکا اپنا مؤثر اور تعمیری کردار مسلسل ادا کر رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور بالواسطہ و بلاواسطہ جنگی اقدامات نے دنیا کی معیشت اور سلامتی کو داؤ پر لگا رکھا ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی وہ اہم ترین گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے کل تیل کی فراہمی کا تقریباً ایک پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

ایران پر عائد امریکی پابندیوں، پاسدارانِ انقلاب اور امریکی بحریہ کے درمیان خلیجِ فارس میں مسلسل تصادم، اور تبادلہِ فائر کی وجہ سے تیل کی عالمی منڈی میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں:ایران اور امریکا کے درمیان مختلف فورم پر بات چیت اور پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے،عباس عراقچی

مارکو روبیو کا بطور امریکی وزیرِ خارجہ یہ سخت لیکن سفارتی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن تہران پر معاشی و ملٹری دباؤ برقرار رکھتے ہوئے اسے اپنی شرائط پر میز پر لانا چاہتا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا یہ تازہ ترین بیان اور مذاکرات کی مشروط پیشکش درج ذیل اہم سیاسی اور جیو اسٹریٹیجک پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔

دباؤ اور سفارت کاری کی دہری حکمتِ عملی

امریکا ایک طرف ایران کی معیشت، دفاعی طاقت کے نقصان اور آبنائے ہرمز میں اس کی ناکامیوں کا ذکر کر کے اس کی کمزوریوں کو دنیا کے سامنے لا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف خود کو امن اور سفارتی حل کا حامی ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کا معاشی اور دفاعی کنٹرول

مارکو روبیو کا یہ کہنا کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہیں حاصل کرنے دیا جائے گا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی کسی بھی قیمت پر عالمی تجارتی اور توانائی کے راستوں کی ناکہ بندی برداشت نہیں کریں گے۔

ایران کے سامنے اہم چیلنج

اندرونی معاشی ابتری، پابندیوں اور دفاعی نقصان کے بعد ایران کے پاس 2 ہی راستے بچتے ہیں، یا تو وہ امریکی شرائط پر مذاکرات کی میز پر آئے، یا پھر طویل المعیاد معاشی بدحالی اور جنگ کا سامنا کرنے پڑے گا۔ اب تمام تر نظریں تہران کے اگلے ردِعمل پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا وہ اس پیشکش کو سنجیدگی سے لیتا ہے یا اسے مسترد کرتا ہے۔

Related Articles