برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ کا نئے وزیراعظم سے بڑا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ کا نئے وزیراعظم سے بڑا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم کو لکھے گئے ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ حکومت کو غزہ کی صورتحال پر واضح پالیسی اختیار کرنی چاہیے اور انسانی حقوق و بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

خط میں گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ رپورٹ میں غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کا جائزہ لیا گیا اور بعض اقدامات کو نسل کشی کے زمرے میں قرار دیا گیا۔

ارکان پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا کہ رپورٹ میں اسرائیلی حملوں میں بچوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے سمیت دیگر سنگین معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے، اس لیے برطانوی حکومت کو اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے۔

برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم کیے بغیر اسرائیل سے تعلقات ممکن نہیں ،مصری صدر

خط میں بین الاقوامی عدالت انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برطانوی حکومت کو اس پر عمل درآمد کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔

ارکان پارلیمنٹ کے مطابق عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ فراہم کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اسے مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوں۔

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکان پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت کو غزہ کی صورتحال پر اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

اقوام متحدہ اور متعدد انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی غزہ میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

editor

Related Articles