ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے برطانیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لندن نے ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ جنگی کارروائی میں امریکا کا ساتھ دیا تو برطانوی فوجی تنصیبات ایران کے لیے جائز عسکری اہداف تصور کی جائیں گی۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی کے مطابق ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں استعمال ہونے والے برطانوی فوجی اڈے یا تنصیبات کو ایران کی مسلح افواج کی جانب سے براہ راست ہدف بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر برطانیہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کسی حملے یا فوجی آپریشن میں تعاون کرتا ہے تو ایسی صورت میں برطانوی تنصیبات کو یقینی اور جائز ہدف سمجھا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ برطانیہ نے امریکی افواج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
دوسری جانب برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی مسلح افواج ملک اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکا، ایران اور اتحادی ممالک کے درمیان سفارتی اور عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکنے پر زور دیا جا رہا ہے۔