امریکا میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی حکمت عملی پر اعلیٰ فوجی اور حکومتی قیادت کے درمیان اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایران پر حملوں کے دائرہ کار اور شدت کے معاملے پر مختلف اعلیٰ حکام الگ الگ مؤقف رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کے حامی ہیں۔ ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ایسی کارروائی چاہتے ہیں جو دو ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایران کی فوجی صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
دوسری جانب رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنرل کین اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ محتاط حکمت عملی کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کو اپنے فضائی دفاعی نظام کے ذخائر محفوظ رکھنے چاہییں اور جنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
امریکی اخبار کے مطابق ان مختلف آرا کے باعث صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اہم فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو کس حد تک بڑھایا جائے اور آئندہ حکمت عملی کیا اختیار کی جائے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایران کے مبینہ حملے کے بعد سخت ردعمل دینے کی دھمکی دی تھی۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا تاہم امریکی فوج نے چند ہی منٹوں میں ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل مار گرائے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ان حملوں کا انتہائی سخت جواب دیا جائے گا۔