اے آئی کے دور میں بچوں کی تصاویر شیئر کرنا کتنا محفوظ؟ نئی وارننگ جاری

اے آئی کے دور میں بچوں کی تصاویر شیئر کرنا کتنا محفوظ؟ نئی وارننگ جاری

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرتے وقت غیر معمولی احتیاط برتیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ان کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرائم پیشہ عناصر اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے بچوں کی عام تصاویر کو تبدیل کرکے جعلی اور نازیبا مواد تیار کر رہے ہیں، جس سے بچوں کی پرائیویسی اور سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :یو ٹیوبر ریحان طارق کے حوالے سے عدالت نے بڑا فیصلہ جاری کردیا

ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر والدین کی جانب سے بچوں کی تصاویر اور یادگار لمحات شیئر کرنے کے رجحان کو ’شرینٹنگ‘ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ عمل بظاہر بے ضرر محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

نیشنل کرائم ایجنسی کا کہنا ہے کہ روزمرہ زندگی میں لی گئی عام تصاویر بھی اے آئی کی مدد سے حقیقت سے قریب تر جعلی تصاویر یا ویڈیوز میں تبدیل کی جا سکتی ہیں، جنہیں غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کیا نادیہ خان کی طلاق ہو گئی؟ اداکارہ نے تصویر شیئر کر کے حقیقت بتا دی

ادھر انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشنکے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران اے آئی سے تیار کی گئی بچوں سے متعلق جعلی جنسی نوعیت کی تقریباً 3 ہزار 500 تصاویر اور ویڈیوز رپورٹ ہوئیں، جبکہ 2024 میں ایسے صرف 13 کیسز سامنے آئے تھے۔ یہ اعداد و شمار اس نوعیت کے سائبر جرائم میں تیزی سے اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود بچوں کی تصاویر جرائم پیشہ افراد آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں، اس لیے والدین کو اپنی آن لائن سرگرمیوں کے حوالے سے پہلے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں :واٹس ایپ کا نیا فیچر ، اب اسٹیٹس پوسٹ کرنے والوں کی بڑی مشکل آسان

والدین کیا احتیاط کریں؟

ماہرین نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سوشل میڈیا پروفائلز کو پرائیویٹ رکھیں اور بچوں کی تصاویر یا ویڈیوز صرف محدود اور قابلِ اعتماد افراد کے ساتھ شیئر کریں۔ اس مقصد کے لیے ’’کلوز فرینڈز‘‘ یا دیگر پرائیویسی فیچرز کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ والدین بچوں سے اس موضوع پر بات کریں اور ان کی رائے جانیں کہ آیا وہ اپنی تصاویر یا ویڈیوز آن لائن شیئر کیے جانے پر رضامند ہیں یا نہیں۔

editor

Related Articles