فتنہ الہندوستان کی سفاکیت کی انتہا، تربت میں اغوا کیے گئے 6 غیر مقامی مزدور بے دردی سے قتل

فتنہ الہندوستان کی سفاکیت کی انتہا، تربت میں اغوا کیے گئے 6 غیر مقامی مزدور بے دردی سے قتل

بلوچستان کے علاقے کیچ سے اغوا کیے گئے 6 غیر مقامی مزدوروں کو فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے بے دردی سے قتل کر دیا، لاشیں تربت کے علاقے ناصر آباد سے برآمد ہوئیں، اس سے قبل اغوا کے دوران ایک مزدور کو موقع پر ہی فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا تھا۔

فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے 27 جولائی 2026 کو کیچ کے علاقے کلاتک، سورگ بازار، ڈگری کاہن میں ایک گاڑی کو روک کر اس میں سوار 7 غیر مقامی مزدوروں کو اغوا کر لیا تھا۔

 اس دوران دہشتگردوں نے صوابی سے تعلق رکھنے والے مزدور جاوید کو فائرنگ کر کے موقع پر ہی شہید کر دیا، جبکہ باقی 6 مزدوروں کو ساتھ لے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، فتنہ الہندوستان کے 2 دہشت گرد ہلاک، متعدد زخمی

پولیس ذرائع کے مطابق آج دہشتگردوں نے تمام مغوی مزدوروں کو بے دردی سے قتل کر دیا، جن کی لاشیں تربت کے علاقے ناصر آباد سے برآمد ہوئیں۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ٹیچنگ اسپتال تربت منتقل کیا گیا، جہاں شناخت کی تصدیق کے بعد لواحقین کے حوالے کیا جائے گا۔

شہید ہونے والے مزدوروں کی شناخت

اغوا کیے گئے اور بعد ازاں شہید کیے جانے والے مزدوروں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے محمد ارشد (لودھراں)، محمد تیمور (بہاولپور)، محمد پرویز (بہاولپور) اور محمد وزیر (بہاولپور) شامل ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے محمد امجد (سالالا بازار) اور محمد یحییٰ (صوابی) بھی ان مزدوروں میں شامل تھے جنہیں بے دردی سے قتل کیا گیا۔ حکام کے مطابق شہید مزدوروں میں 4 کا تعلق پنجاب جبکہ 2 کا تعلق خیبر پختونخوا سے تھا۔

سیکیورٹی فورسز کا ردعمل اور تلاش کا عمل

پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مغوی مزدوروں کی بازیابی کے لیے فوری طور پر مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا تھا، تاہم اس سے قبل کہ مزدوروں کو بازیاب کرایا جا سکتا، دہشتگردوں نے انہیں قتل کر دیا۔

کوئٹہ، تربت سے ملنے والی لاشیں 6 غیر مقامی مزدوروں کی ہیں، صوبائی محکمہ داخلہ کی تصدیق

کوئٹہ میں محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے تصدیق کی ہے کہ تربت سے ملنے والی لاشیں دو روز قبل اغوا کیے جانے والے چھ مزدوروں کی ہیں۔

معاون برائے میڈیا محکمہ داخلہ بابر یوسفزئی کے مطابق شہید کیے جانے والے ان مزدوروں میں سے 4 کا تعلق پنجاب سے جبکہ 2 کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے۔ ان معصوم مزدوروں کو انتہائی بے دردی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

اغوا اور شہادت کا دلخراش واقعہ

محکمہ داخلہ  کا کہنا ہے کہ کل 7 مزدوروں کو دو روز قبل ضلع کیچ کے علاقے کلاتک سے نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کیا تھا۔

محکمہ داخلہ کے مطابق ان میں سے ایک مزدور کو اغوا کے فورا بعد فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا تھا جبکہ باقی 6 مزدوروں کو نامعلوم مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

بعد ازاں، ان تمام 6 مغوی مزدوروں کو بھی شہید کرنے کے بعد ان کی لاشیں ناصر آباد کے علاقے سے برآمد ہوئیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری ہے۔

ماشکیل سانحہ، چند روز قبل کا ایک اور دلخراش واقعہ

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل رواں ماہ ہی بلوچستان کے علاقے واشک کے مقام ماشکیل میں بھی پنجاب سے تعلق رکھنے والے 5 مزدوروں کو فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے بے دردی سے شہید کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں:کھدکوچہ بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائی، فتنہ الہندوستان (بی ایل اے) کے 5 دہشت گرد جہنم واصل

صدرِ پاکستان نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے بزدلانہ حملے ملک کے دہشت گردی کے خلاف عزم کو کمزور نہیں کر سکتے اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد اور ان کے سہولت کار قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں گے۔

غیر مقامی مزدوروں پر بڑھتے حملے

بلوچستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے مسلح گروہوں کی جانب سے غیر مقامی بالخصوص پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ مزدور اکثر ترقیاتی منصوبوں، تعمیراتی کاموں اور سیلاب سے بچاؤ کے ہنگامی منصوبوں پر کام کے لیے صوبے کا رخ کرتے ہیں۔

ماضی میں بھی کیچ واشک اور دیگر اضلاع میں اسی نوعیت کے حملے رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں درجنوں غیر مقامی مزدور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

کالعدم مسلح تنظیمیں اکثر ترقیاتی منصوبوں اور غیر مقامی افراد کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا کر خطے میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کرتی ہیں۔

دہشتگردی کی نئی حکمتِ عملی یا پرانا بیانیہ؟

یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیمیں اب براہ راست سیکیورٹی فورسز کے بجائے نہتے اور بے گناہ مزدوروں کو نشانہ بنا کر اپنی موجودگی اور اثر و رسوخ کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

یہ حکمتِ عملی دراصل ایک کمزور پوزیشن کی عکاسی کرتی ہے، کیونکہ سیکیورٹی فورسز کے مسلسل آپریشنز کے باعث دہشتگرد براہ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے آسان اہداف کی جانب رجوع کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:زیارت میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کیخلاف سیکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن مکمل، 15 دہشتگرد جہنم واصل

غیر مقامی مزدوروں کو بار بار نشانہ بنانا دراصل بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک منظم کوشش دکھائی دیتی ہے، جس کا مقصد باہر سے آنے والی افرادی قوت کو خوفزدہ کر کے صوبے میں جاری تعمیراتی و ترقیاتی سرگرمیوں کو روکنا ہے۔

اس طرح کے حملے نہ صرف انسانی جانوں کا بھیانک ضیاع ہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کے روزگار اور صوبے کی معاشی ترقی پر بھی براہ راست حملہ ہیں، کیونکہ ایسے واقعات کے بعد مزدور طبقہ خوف کے باعث دیگر صوبوں سے بلوچستان آنے سے گریز کرنے لگتا ہے، جس سے مقامی ترقیاتی منصوبے بھی متاثر ہوتے ہیں۔

بار بار کے ایسے واقعات اس بات کا بھی تقاضا کرتے ہیں کہ حساس علاقوں میں سفر کرنے والے غیر مقامی مزدوروں کی سیکیورٹی کے لیے مؤثر حفاظتی انتظامات اور فوری ردعمل کا نظام تشکیل دیا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کو روکا جا سکے۔

Related Articles