مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی ملک محمد اقبال چنڑ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔
ملک محمد اقبال چنڑ کے اہل خانہ نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے علیل اور زیرِ علاج تھے۔ اہل خانہ کے مطابق انہیں برین ہیمرج ہوا تھا، جس کے بعد ان کا آپریشن بھی کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
مرحوم ملک محمد اقبال چنڑ قومی اسمبلی کے حلقہ ‘این اے 168 بہاولپور 5’ سے مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی تھے۔ انہوں نے 29 فروری 2024 کو قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھایا تھا۔
ملک محمد اقبال چنڑ کا شمار بہاولپور سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن کے تجربہ کار رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ وہ طویل عرصے تک پنجاب کی صوبائی سیاست میں بھی سرگرم رہے اور 2002 سے 2018 کے دوران مختلف ادوار میں رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوتے رہے۔
وہ پنجاب حکومت میں خصوصی تعلیم، جیل خانہ جات اور امداد باہمی سمیت مختلف محکموں کے صوبائی وزیر بھی رہے۔ ان کی سیاسی سرگرمیوں کا بڑا مرکز بہاولپور اور جنوبی پنجاب تھا، جہاں وہ مسلم لیگ ن کے اہم علاقائی رہنما سمجھے جاتے تھے۔
ملک محمد اقبال چنڑ 15 مارچ 1950 کو بہاولپور میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی۔ وہ تقریباً 76 برس کے تھے۔
مرحوم نے 2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر حلقہ ‘این اے 168 بہاولپور 5’ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان کا تعلق پنجاب اور جماعت مسلم لیگ ن سے تھا۔
ملک محمد اقبال چنڑ، پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ کے والد تھے۔ پنجاب اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ میں بھی ملک محمد اقبال چنڑ کو ڈپٹی اسپیکر کے والد کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
ان کے انتقال سے مسلم لیگ ن بہاولپور میں اپنے ایک دیرینہ اور تجربہ کار پارلیمانی رہنما سے محروم ہو گئی ہے۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے دوران صوبائی اور قومی سطح پر بہاولپور کی نمائندگی کی اور مختلف سرکاری ذمہ داریاں انجام دیں۔
ملک محمد اقبال چنڑ کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے اہل خانہ اور کارکنوں سے تعزیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
ملک محمد اقبال چنڑ نے 2002 کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کی نشست حاصل کی تھی۔ وہ 2008 اور 2013 میں بھی دوبارہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
2008 میں قائم ہونے والی پنجاب حکومت میں انہیں خصوصی تعلیم کا صوبائی وزیر مقرر کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے جیل خانہ جات کی وزارت بھی سنبھالی۔ 2013 کے انتخابات کے بعد وہ امداد باہمی کے صوبائی وزیر بنے۔
صوبائی سیاست میں طویل عرصہ گزارنے کے بعد وہ 2024 کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی پہنچے۔ ان کی سیاسی شناخت بہاولپور کے حلقوں میں مسلسل انتخابی موجودگی، مسلم لیگ ن سے طویل وابستگی اور جنوبی پنجاب کی سیاست میں اثر و رسوخ کے باعث نمایاں رہی۔
ملک محمد اقبال چنڑ کا انتقال مسلم لیگ ن کے لیے بالخصوص بہاولپور اور جنوبی پنجاب کی سطح پر ایک اہم سیاسی نقصان ہے۔ وہ ان رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے صوبائی سیاست سے قومی سیاست تک طویل سفر کیا اور مختلف انتخابی ادوار میں اپنی جماعت کی نمائندگی جاری رکھی۔
ان کا سیاسی اثر صرف قومی اسمبلی کی ایک نشست تک محدود نہیں تھا بلکہ چنڑ خاندان کی بہاولپور کی سیاست میں موجودگی بھی ان کی اہمیت بڑھاتی تھی۔
ان کے صاحبزادے ملک ظہیر اقبال چنڑ اس وقت پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر ہیں، اس لیے یہ خاندان صوبائی اور قومی دونوں سطحوں پر سیاسی نمائندگی رکھتا ہے۔
ان کے انتقال کے بعد حلقہ ‘این اے 168 بہاولپور 5’ کی نمائندگی اور ممکنہ ضمنی انتخاب بھی سیاسی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔
یہ نشست مسلم لیگ ن کے لیے اہم ہوگی، کیونکہ جماعت اپنے دیرینہ رہنما کے حلقے میں سیاسی اثر برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔
پارلیمانی نقطہ نظر سے بھی ان کا انتقال اہم ہے، کیونکہ ایک رکن قومی اسمبلی کے انتقال کے بعد نشست خالی قرار دینے اور ضمنی انتخاب کے لیے آئینی اور انتخابی عمل شروع کیا جاتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی اعلان متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے کیا جائے گا۔