چیچہ وطنی میں سوگ، ن لیگ کے رکن پنجاب اسمبلی چوہدری حنیف جٹ کا انتقال

چیچہ وطنی میں سوگ، ن لیگ کے رکن پنجاب اسمبلی چوہدری حنیف جٹ کا انتقال

چیچہ وطنی سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ’ن‘ کے رکن پنجاب اسمبلی چوہدری محمد حنیف جٹ حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث اچانک انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی ناگہانی وفات پر علاقے کے تمام سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

صوبہ پنجاب کے شہر چیچہ وطنی کی سیاست میں اس وقت صفِ ماتم بچھ گئی جب مسلم لیگ ’ن‘ کے مقامی رہنما اور موجودہ رکن صوبائی اسمبلی چوہدری محمد حنیف جٹ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان ہاکی کو عالمی اعزازات دلانے والا عظیم کھلاڑی انتقال کرگیا

خاندانی ذرائع کے مطابق ان کی موت دل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوئی۔ اس خبر کے پھیلتے ہی حلقے کے عوام، حامیوں اور پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد ان کی رہائش گاہ پر جمع ہونا شروع ہو گئی۔

سیاسی مخالفین اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی سماجی شخصیات کی جانب سے بھی اس سانحے پر تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔

نمازِ جنازہ کے انتظامات

مرحوم کی آخری رسومات کے حوالے سے خاندانی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ چوہدری محمد حنیف جٹ کی نمازِ جنازہ آج بعد از نمازِ عصر ادا کی جائے گی۔

جنازے کے لیے آزادی چوک اسٹیڈیم، چیچہ وطنی کا وسیع مقام منتخب کیا گیا ہے تاکہ عوام کی بڑی تعداد اپنے قائد کی آخری رسومات میں باآسانی شرکت کر سکے۔

مقامی انتظامیہ نے جنازے کے موقع پر رش کے پیشِ نظر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔

واضح رہے کہ چوہدری محمد حنیف جٹ کا شمار علاقے کے ان عوامی نمائندوں میں ہوتا تھا جن کا نچلی سطح پر عوام سے براہِ راست رابطہ تھا۔

انہوں نے حالیہ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ’ن‘ کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 203 سے شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔

مزید پڑھیں:پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان انتقال کر گئے

وہ ایک طویل عرصے سے مقامی سیاست میں متحرک رہے اور انہوں نے اپنی جماعت کے بیانیے کو مضبوط کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کامیابی دراصل علاقے میں ان کی برادری اور ذاتی اثر و رسوخ کی بھی عکاس تھی۔

حلقے کی سیاست پر اثرات

سیاسی امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق چوہدری محمد حنیف جٹ کی اچانک وفات سے چیچہ وطنی کی مقامی سیاست میں ایک واضح خلا پیدا ہو گیا ہے۔

حلقہ پی پی 203 میں مسلم لیگ ’ن‘ کا تنظیمی ڈھانچہ کافی حد تک ان کی ذاتی کاوشوں، رواداری اور مقامی دھڑوں کے ساتھ ان کے تعلقات پر استوار تھا۔

قانون کے مطابق الیکشن کمیشن اب اس نشست کو خالی قرار دے گا، جس کے بعد یہاں ضمنی انتخاب ناگزیر ہو جائے گا۔

Related Articles