متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے لیے وزٹ ویزا کے اجرا میں نرمی کے بعد اسلام آباد میں قائم یو اے ای سفارت خانے اور ویزا درخواست مراکز پر ایک بار پھر رونقیں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق گزشتہ تقریباً 10 روز کے دوران وزٹ ویزا درخواستوں کی وصولی اور منظوری کے عمل میں نمایاں تیزی آئی ہے جس کے باعث بڑی تعداد میں پاکستانی شہری دوبارہ یو اے ای کے سفر کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مکمل دستاویزات کے ساتھ جمع کرائی جانے والی درخواستوں پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے کارروائی کی جا رہی ہے خاص طور پر خاندان کے ہمراہ سفر کرنے والے افراد اور متحدہ عرب امارات میں مقیم اپنے عزیز و اقارب سے ملاقات کے خواہش مند پاکستانیوں کی درخواستوں کی منظوری میں واضح بہتری آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانیوں کے ویزوں سے متعلق قوانین میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی البتہ ویزہ پراسس کے عمل کو سخت کیا گیا تھا اب اس میں نرمی کرتے ہوے ویزوں کا اجرا شروع کر دیا ہے ابھی سال 2025میں جتنے ویزہ جاری ہوتے تھے اتنے تو نہیں ہورہے البتہ اس سال جاری ہونے والے ویزوں کی شرح میں نمایاں بہتری آئی ہے اور یہ شرح 600 تک جا سکتی ہے
ذرائع کے مطابق ویزا سیکشن میں گزشتہ کئی ماہ کے مقابلے میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی جا رہی ہے اور روزانہ بڑی تعداد میں شہری معلومات حاصل کرنے درخواستیں جمع کرانے اور اپنے ویزوں کی پیش رفت معلوم کرنے کے لیے رجوع کر رہے ہیں۔ روزانہ سیکڑوں درخواستیں موصول ہو رہی ہیں جبکہ منظوری کا عمل بھی پہلے کے مقابلے میں تیز کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان سے متحدہ عرب امارات جانے والے مسافروں کی تعداد میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں دبئی اور دیگر امارات کے لیے پروازوں پر بکنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور متعدد پاکستانی خاندان وزٹ ویزے حاصل کرنے کے بعد سفر کر چکے ہیں جبکہ مزید افراد کی روانگی کا سلسلہ جاری ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اگرچہ ہر درخواست معمول کی سیکیورٹی جانچ کے عمل سے گزرتی ہے تاہم مکمل اور درست دستاویزات رکھنے والے درخواست گزاروں کو غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ویزا مسترد ہونے کے کیسز میں بھی پہلے کے مقابلے میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے تاہم مسترد ہونے کی شرح سے متعلق کوئی باضابطہ اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق ماضی میں جعلی دستاویزات فرضی ملازمت کے معاہدوں بعض افراد کی غیر قانونی سرگرمیوں اور نامکمل کاغذات کے باعث جانچ پڑتال سخت کی گئی تھی تاہم اب حقیقی اور مکمل دستاویزات کے ساتھ درخواست دینے والوں کے لیے عمل نسبتاً آسان بنا دیا گیا ہے۔
سفارتی ذرائع نے مزید بتایا کہ موجودہ پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان سیاحت کاروباری سرگرمیوں اور خاندانی روابط میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ پاکستانی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف رجسٹرڈ ٹریول ایجنسیوں کے ذریعے درخواستیں جمع کرائیں تمام مطلوبہ دستاویزات مکمل رکھیں اور کسی بھی غیر مصدقہ یا جعلی ایجنٹ سے گریز کریں تاکہ ویزا کے حصول میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے