اوورسیز پاکستانیوں بڑا دیرینہ مسئلہ حل، بیرون ملک بیٹھ کر جائیداد منتقلی کی سہولت کا آغاز

اوورسیز پاکستانیوں بڑا دیرینہ مسئلہ حل، بیرون ملک بیٹھ کر جائیداد منتقلی کی سہولت کا آغاز

لندن میں مقیم پاکستانیوں کو بڑی راحت دیتے ہوئے پاکستان ہائی کمیشن نے پنجاب میں جائیداد کی براہِ راست ڈیجیٹل منتقلی کی سہولت کا آغاز کر دیا ہے۔ اس جدید نظام کے بعد اب اوورسیز پاکستانیوں کو جائیداد کی منتقلی کے لیے مہنگے دورے کرنے یا کسی ایجنٹ اور پاور آف اٹارنی کی ضرورت نہیں رہے گی۔

لندن ہائی کمیشن کا تاریخی اقدام اور نئی سہولت کا تعارف

وزیراعظم کے ویژن کے تحت اوورسیز پاکستانیوں کو بہترین قونصلر خدمات فراہم کرنے کے دائرہ کار کو وسعت دی جا رہی ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان ہائی کمیشن لندن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے باضابطہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ اب صوبہ پنجاب میں واقع جائیدادوں کی ڈیجیٹل منتقلی کا عمل براہِ راست ہائی کمیشن کے اندر ہی انجام پائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:دنیا کے 61 ممالک میں 21 ہزار 406 پاکستانی قید، وزارت اوورسیز پاکستانیزکاانکشاف

 اس اقدام سے نہ صرف تمام تر قانونی کارروائی شفاف بنے گی بلکہ یہ طریقہ کار انتہائی محفوظ، تیز رفتار اور کم خرچ بھی ثابت ہوگا۔

ایجنٹ کلچر اور غیر ضروری سفر سے نجات

ماضی میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان میں اپنی جائیداد بیچنے، خریدنے یا منتقل کرنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

انہیں مجبوراًاپنے قیمتی وقت کا زیاں کر کے ہزاروں میل کا سفر طے کر کے پاکستان آنا پڑتا تھا، یا پھر مجبوری کے تحت کسی وکیل، عزیز یا تیسرے فریق کو پاور آف اٹارنی دینا پڑتا تھا جس میں فراڈ اور دھوکہ دہی کا خطرہ ہمیشہ سر پر منڈلاتا رہتا تھا۔

اب اس جدید ڈیجیٹل نظام کی بدولت یہ تمام رکاوٹیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہیں اور تارکینِ وطن برطانیہ میں بیٹھے بیٹھے ہی اپنی جائیداد کے معاملات نپٹا سکتے ہیں۔

پہلے کیس کی شاندار کامیابی اور عملی مظہر

اس نظام کے موثر ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نئی سہولت کے تحت پہلا بڑا کیس کامیابی سے نمٹا لیا گیا ہے۔

مسٹر فضل اور ان کے اہلِ خانہ نے اس ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے اپنی جائیداد کی منتقلی کا تمام عمل انتہائی خوش اسلوبی اور کم وقت میں مکمل کر لیا ہے۔

ہائی کمیشن کے مطابق یہ پہلا کامیاب کیس اس جدید نظام کی اعلیٰ کارکردگی کا عملی ثبوت ہے، جس سے دوسرے تارکینِ وطن کا بھی اس سسٹم پر اعتماد مزید پختہ ہو گا.

مزید پڑھیں:قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز میں بیرونِ ممالک مقیم پاکستانیوں کے رویوں اور اخلاقیات بارے ہوشربا انکشافات

گزشتہ چند سالوں سے حکومتِ پاکستان کی یہ کوشش رہی ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو جو کہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔

خصوصاً زمین اور جائیدادوں کے تنازعات، جعل سازی اور اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن پر زور دیا گیا ہے۔

 پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے اشتراک سے اس طرح کے سافٹ ویئر اور سسٹمز تیار کیے گئے ہیں تاکہ سرحدوں کے فاصلوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے کم کیا جا سکے۔

یہ قدم نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اس سے ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور جائیداد کے شعبے میں شفافیت بھی بڑھے گی۔

تارکینِ وطن اکثر یہ شکایت کرتے تھے کہ وہ بیرونِ ملک بیٹھ کر اپنے آبائی ملک کی جائیدادوں کو کنٹرول نہیں کر سکتے اور مختلف مافیاز اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ہائی کمیشن کی سطح پر اس سہولت کی فراہمی سے استحصال کا دروازہ بند ہو گا، وقت کی بچت ہوگی اور ملکی معیشت کو بھی زرمبادلہ کی شکل میں مزید استحکام ملے گا۔

حکومت کو چاہیے کہ اس نظام کو لندن کے علاوہ برطانیہ کے دیگر شہروں اور دنیا کے دوسرے ممالک تک بھی وسعت دے تاکہ تمام اوورسیز پاکستانی اس سے یکساں مستفید ہو سکیں۔

Related Articles