میٹرک کا رزلٹ آ گیا، کتنے طلبہ پاس کتنے فیل ؟حیران کن اعداد وشمار

میٹرک کا رزلٹ آ گیا، کتنے طلبہ پاس کتنے فیل ؟حیران کن اعداد وشمار

تعلیمی بورڈ پشاور نے میٹرک کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے نتائج کے مطابق ہزاروں طلبہ نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنی تعلیمی منزل کی جانب اہم پیش رفت کی جبکہ نویں جماعت کے طلبہ کو نئی پروموشن پالیسی کے تحت دسویں جماعت میں بھی ترقی دی گئی۔

بورڈ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق نویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں مجموعی طور پر 97 ہزار 950 طلبہ نے شرکت کی ان میں سے 39 ہزار 103 طلبہ امتحان میں کامیاب قرار پائے جبکہ 57 ہزار 847 طلبہ کو دسویں جماعت میں پروموٹ کر دیا گیا اس طرح نویں جماعت میں کامیابی اور پروموشن کا مجموعی تناسب 99 فیصد رہا جسے تعلیمی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں 95 ہزار 496 طلبہ نے حصہ لیا۔ ان میں سے 66 ہزار 988 طلبہ کامیاب قرار پائے، جبکہ 27 ہزار 788 طلبہ مطلوبہ نمبر حاصل نہ کر سکے اور فیل قرار دیے گئے۔ بورڈ کے مطابق دسویں جماعت کے نتائج میں کامیابی کا مجموعی تناسب 70.2 فیصد رہا، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں حوصلہ افزا قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اب مہنگا موبائل پیکج لینے کی ضرورت نہیں، PTA نے آسان حل بتا دیا

تعلیمی بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ نتائج کو شفاف، بروقت اور جدید نظام کے تحت مرتب کیا گیا ہے تاکہ طلبہ اور والدین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بورڈ نے طلبہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنا تفصیلی رزلٹ بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ اور دیگر مجاز ذرائع سے حاصل کریں۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق نویں جماعت میں پروموشن پالیسی سے طلبہ کو اپنی تعلیمی صلاحیتوں میں مزید بہتری لانے کا موقع ملے گا جبکہ دسویں جماعت کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بڑی تعداد میں طلبہ نے محنت کے بل بوتے پر نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ہونڈا نے CD 70 کا نیا 2027 ماڈل متعارف کرا دیا

نتائج کے اعلان کے بعد صوبے بھر میں طلبہ، والدین اور اساتذہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ کامیاب طلبہ نے اپنی کامیابی کو اساتذہ اور والدین کی رہنمائی اور اپنی مسلسل محنت کا نتیجہ قرار دیا، جبکہ بورڈ حکام نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles