ایران نے امریکا سے مذاکرات کی بحالی اور جنگ کے خاتمے کیلئے 3 شرائط پیش کردیں

ایران نے امریکا سے مذاکرات کی بحالی اور جنگ کے خاتمے کیلئے 3 شرائط پیش کردیں

 ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ تہران نے قطر کے ذریعے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تین اہم شرائط واشنگٹن کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

عالمی میڈیا سے گفتگو میں محسن رضائی نے بتایا کہ ایران نے قطری ثالث کے ذریعے اپنے مطالبات امریکا تک پہنچا دیے ہیں، ان  کا کہنا تھا کہ تہران اور قطر کے درمیان اس معاملے پر مسلسل رابطہ جاری ہے۔

جنگ کا خاتمہ

محسن رضائی  نے کہا کہ  ایران نے کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے تمام محاذوں پر جاری جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تہران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے جنگی صورتحال کا خاتمہ ضروری ہے۔

منجمد اثاثوں کی بحالی

ایران کی دوسری شرط بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی ہے، محسن رضائی نے کہا کہ تہران چاہتا ہے کہ ایرانی اثاثوں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں اور انہیں دوبارہ بحال کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں :طاقت اور دباؤ کے ذریعے مطالبات منوانے والا یکطرفہ عالمی نظام اب ختم ہو چکا ، ایرانی سپیکرباقر قالیباف

بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ

ایرانی حکام نے امریکا سے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے، یہ تینوں شرائط کسی بھی نئے معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران کے بنیادی مطالبات ہیں۔

ٹرمپ کے جواب کا انتظار

ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری کا کہنا تھا کہ تہران نے اپنے مطالبات امریکا تک پہنچا دیے ہیں اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب کا انتظار ہے۔

بالواسطہ سفارت کاری جاری

محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کے باوجود بالواسطہ سفارتی رابطے برقرار رہے یہ رابطےاب بھی جاری ہیں ۔

پاکستان کی میزبانی میں بات چیت

یاد رہے کہ جون میں پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت ہوئی تھی، جس کے بعد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھےاس کا مقصد جنگ بندی اور مستقبل میں ایک وسیع تر معاہدے کے لیے راستہ ہموار کرنا بتایا گیا تھا۔

editor

Related Articles