پلاسٹک آلودگی کا حل؟ نئی ٹیکنالوجی سے ماحول دوست ایندھن میں تبدیل

پلاسٹک آلودگی کا حل؟ نئی ٹیکنالوجی سے ماحول دوست ایندھن میں تبدیل

سائنس دانوں نے پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے فضلے کو ماحول دوست ایندھن میں تبدیل کرنے کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایک ایسا نیا کیمیائی طریقہ کار تیار کیا ہے جس کے ذریعے مختلف اقسام کے پلاسٹک کو براہ راست اعلیٰ معیار کی ہائیڈروجن گیس میں تبدیل کیا جا سکتا ہےجبکہ کاربن کو فضا میں خارج ہونے کے بجائے محفوظ بھی رکھا جاتا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق جنوبی کوریا کی ایوا ویمنز یونیورسٹی اور امریکا کی یو سی ایل اے سیموئیلی اسکول آف انجینئرنگ کے سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر انجام دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:رات کو موبائل چارج کرنا بہتر یا صبح؟ ماہرین نے بیٹری کی صحت کا راز بتا دیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی کی بوتلوں، شاپنگ بیگز اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا پلاسٹک سے تیار کی جاتی ہیں، لیکن استعمال کے بعد یہی فضلہ ماحول کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے کیونکہ مختلف اقسام کے پلاسٹک کو الگ الگ ری سائیکل کرنا مہنگا اور پیچیدہ عمل ہے۔

نئی ٹیکنالوجی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں عام استعمال ہونے والے تین اہم پلاسٹکس، پی ای ٹی، پی ای اور پی پی، کو الگ کیے بغیر ایک ہی ری ایکٹر میں پروسیس کیا جا سکتا ہے، جس سے ری سائیکلنگ کا عمل زیادہ آسان اور مؤثر ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :شہابیہ زمین کی طرف آیا تو کیا ہوگا؟ چین نے نیا دفاعی منصوبہ پیش کر دیا

تحقیق کے مطابق اس عمل میں سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ استعمال کیا جاتا ہے، جو پلاسٹک میں موجود کاربن کو کاربن ڈائی آکسائیڈ کی صورت فضا میں خارج ہونے سے روکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں 75 فیصد سے زیادہ کاربن ٹھوس کاربونیٹس یا مائع باقیات کی شکل میں محفوظ رہتا ہے، جس سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

سائنس دانوں نے اس مقصد کے لیے الکلائن تھرمل ٹریٹمنٹ (اے ٹی ٹی) نامی ترمیم شدہ ٹیکنالوجی استعمال کی، جو روایتی اسٹیم گیس فیکیشن کے مقابلے میں 300 سے 400 ڈگری سینٹی گریڈ کم درجہ حرارت پر کام کرتی ہے۔ اس طرح توانائی کی بچت بھی ممکن ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فوڈ پانڈا کا بڑا اقدام، ڈیلیوری رائیڈرز کے لیے آرام گاہ قائم

ماہرین کے مطابق اس عمل سے حاصل ہونے والی ٹھوس باقیات کو بعد میں کیلشیم کاربونیٹ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس سے کاربن کو طویل مدت تک محفوظ رکھنے اور ماحول میں اس کے اخراج کو مزید کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں پلاسٹک کی آلودگی کم کرنے، صاف ہائیڈروجن ایندھن کی پیداوار بڑھانے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات محدود کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

editor

Related Articles