امریکا کے غیر معمولی ذہین انجینئرنگ طالب علم نیتھن تھامس نے صرف 18 سال کی عمر میں دنیا کے کم عمر ترین کالج پروفیسر بننے کا اعزاز حاصل کرکے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق نیتھن تھامس کی عمر 18 سال اور 346 دن تھی جب انہوں نے اگست 2023 میں امریکی ریاست فلوریڈا کے میامی ڈیڈ کالج میں بطور پروفیسر تدریسی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
اس کامیابی کے ساتھ نیتھن نے مردوں کی کیٹیگری میں 306 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا، جو اس سے قبل اسکاٹ لینڈ کے ریاضی دان کولن میکلورین کے نام تھا۔ میکلورین 19 سال کی عمر میں پروفیسر بنے تھے۔
نیتھن تھامس نے دنیا کی کم عمر ترین خاتون پروفیسر عالیہ صبور کا ریکارڈ بھی پیچھے چھوڑ دیا، جو 2008 میں 18 سال اور 362 دن کی عمر میں پروفیسر بنی تھیں۔
نیتھن کی غیر معمولی ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے صرف 10 سال کی عمر میں میامی ڈیڈ کالج میں ڈوئل انرولمنٹ پروگرام کے تحت کالج کی تعلیم کا آغاز کر دیا تھا۔ بعد ازاں 14 سال کی عمر میں وہ فلوریڈا انٹرنیشنل یونیورسٹی منتقل ہوگئے، جہاں انہوں نے اپنی تعلیمی صلاحیتوں کا سفر مزید آگے بڑھایا۔
ماہرین کے مطابق نیتھن تھامس کی یہ کامیابی کم عمری میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور تدریسی میدان میں ایک نئی مثال ہے، جو دنیا بھر کے نوجوان طلبہ کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو سکتی ہے۔