ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے بیان کے بعد بھارت اور افغان طالبان رجیم کے باہمی تعلقات ایک بار پھر سفارتی بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران اس معاملے پر ردعمل دیا، جبکہ پاکستان نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے دونوں کے درمیان دہشتگردی سے متعلق تعاون کے الزامات کو ایک بار پھر نمایاں کیا۔
بھارتی ترجمان سے سوال، جواب میں ’فرسٹریشن‘ کا حوالہ
بھارتی وزارتِ خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے حالیہ بیان سے متعلق سوال کیا تو بھارتی ترجمان نے اس پر براہِ راست تبصرہ کرنے کے بجائے اسے ‘فرسٹریشن’ قرار دیتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔
یہ سوال ایسے وقت سامنے آیا جب پاکستان کی جانب سے بھارت اور افغان طالبان رجیم کے درمیان تعلقات سے متعلق سخت مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے اور دونوں کے روابط پر متعدد دعوے کیے جا رہے ہیں۔
افغان وزیر کے ‘ڈی این اے’ بیان کا حوالہ
پاکستانی مؤقف کے مطابق حالیہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب افغان طالبان رجیم کے ایک وزیر نے بھارت کے دورے کے دوران یہ دعویٰ کیا کہ افغان طالبان اور بھارت کا ‘ڈی این اے’ ایک ہے۔
پاکستانی حکام اسی بیان کو بنیاد بناتے ہوئے مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ دونوں کے درمیان تعلقات معمول کی سفارتی روابط سے کہیں زیادہ گہرے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا بیان
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان کو معلوم ہے کہ بھارت اور افغان طالبان رجیم دہشت گردی کے فروغ کے معاملے میں ایک ہی سمت میں کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت اور افغان طالبان رجیم کا ‘ڈی این اے’ ایک ہے۔ ان کے مطابق بھارت مسلمانوں کو نشانہ بناتا ہے، جبکہ افغان طالبان رجیم اسلام کا مسخ شدہ چہرہ دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارت میں حکمراں جماعت اور اس کی نظریاتی تنظیم کا افغان طالبان رجیم کے ساتھ تعلق ‘آقا اور غلام’ جیسا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہندوتوا نظریے کے تحت بھارت میں مسلمانوں، ان کی عبادت گاہوں اور کشمیری مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ افغان طالبان رجیم بھارتی سرپرستی میں ایسے اقدامات کر رہی ہے جو اسلام کی حقیقی تعلیمات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
دہشتگردی سے متعلق پاکستان کا مؤقف
پاکستانی مؤقف کے مطابق ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ الہندوستان‘ جیسے دہشتگرد گروہ افغان سرزمین پر موجود محفوظ پناہ گاہوں، معاونت اور بھارتی مالی سرپرستی کے ذریعے سرگرم ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گرد عناصر کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جس پر اسلام آباد متعدد مواقع پر اپنی تشویش عالمی برادری کے سامنے بھی رکھ چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق بھارت خطے میں دہشتگردی کو اپنے اسٹرٹیجک مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے، جبکہ افغان طالبان رجیم پر بھی دہشتگرد گروہوں کو پنپنے کے مواقع فراہم کرنے اور اس سے مالی فوائد حاصل کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
ان ماہرین کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتے روابط خطے کی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
پاکستان گزشتہ چند برسوں سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آ رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
اسلام آباد متعدد بار افغان حکام سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کریں۔
دوسری جانب بھارت اور افغان طالبان رجیم کے درمیان حالیہ سفارتی روابط اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں نے بھی خطے میں نئی سفارتی بحث کو جنم دیا ہے۔ تاہم بھارت اور افغان طالبان رجیم مختلف مواقع پر دہشتگردی کی سرپرستی سے متعلق الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا ردعمل بھی اسی سفارتی تناؤ کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب افغان طالبان رجیم اور بھارت کے بڑھتے روابط پاکستان کے لیے باعثِ تشویش قرار دیے جا رہے ہیں۔
مستقبل میں یہ معاملہ صرف سفارتی بیانات تک محدود رہتا ہے یا اس پر مزید علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر پیش رفت ہوتی ہے، اس کا انحصار آنے والے دنوں میں متعلقہ ممالک کے عملی اقدامات اور سفارتی حکمتِ عملی پر ہوگا۔